Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

 

 

 

کتابُ الحُدُود وَالتّعزیر

(حدود اور تعزیر کا بیان)

 

مسئلہ٢٥٢:          ١٨محرم١٣٠٧ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت کا یہ بیان ہے کہ زید نے مجھ سے زنابالجبر کیا،گواہ معاینہ کا کوئی نہیں،اور یہ بیان اس عورت کا ہے کہ جس مکان میں واقعہ مذکور گزرا ہے اس میں سوائے میرے اور زید کے اور کوئی موجود نہ تھا،زید کا انکار ہے کہ میں نے زنا نہیں کیا البتہ تہدید کےلئے عورت مذکور کو سخت اور سست کہا تھا،اور وہ تہدید یہ تھی یعنی صبح کو جس وقت زید پانی بھرنے کو اپنے ٹھکانوں میں جانے لگا تو زید نے اس عورت کو خواب سے بیدار کیا کہ ہوشیار ہوجا ایسا نہ ہو کہ کوئی آوارہ آدمی کوئی چیز اٹھالے جائے،جب زید پانی بھر کر لوٹ آیا تو عورت مذکورکو سوتا پایا تو اس نے ایك لات چار پائی اس عورت میں ماری کہ ابھی تك غافل سورہی ہے کوئی مال اٹھالے جاتا تو کیاہوتا،اور زید نے سخت اور سست بھی کہا،اس پر اس نے شورمچایا اور زید کو متہم بالزنا بالجبر کیا،آیا اس بارے میں بلحاظِ واقعاتِ صدرقولِ عورت قابلِ اعتبار ہے یانہیں؟اور دو شخص جن میں ایك مسلمان اور دوسرا ہندو یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سنا کہ مکان میں سے آواز آتی ہے کہ یہ شخص میری آبرو اتارے لیتا ہے،بینواتوجروا۔


 

 



Total Pages: 688

Go To