Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

 

باب الکفارۃ

(کفارے کا بیان)

 

مسئلہ٢٥٠:             ١٨ربیع الاول شریف١٣٢٢ھ

چہ می فرمایند حامیانِ دین و مفتیان شرع متین دریں مسئلہ کہ زید از شراب خوری توبہ کرد ومواجہہ چار کس کلام اﷲشریف رابرد اشتہ قسم خورد کہ شراب رانوش نکنم وبارد گر شخصاں دریافت کرد زید از توبہ واز قسم اقرار کرد بعدہ اززید فعل شنیع سر زد شد یعنی شراب بخورد وچساں زید ازیں گناہ بری خواہد شد چہ کفارہ باید داد؟

دین کے حامی اور شرع کے مفتی کیافرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ زید نے شراب نوشی سے توبہ کی اور چار حضرات کے سامنے اس نے قرآن پاک اٹھا کر قسم کھائی کہ میں شراب نوشی نہیں کروں گا۔لوگوں نے اس سے استفسار کیاتو اس نے اپنی توبہ اور قسم کا اقرار کیا،اس کے بعدزید سے یہ برافعل سرزد ہوا یعنی اس نے دو بارہ شراب نوشی کی،اب سوال ہے کہ زید اس گناہ سے کس طرح بری ہوسکتا ہے اور اس کو کیا کفارہ دینا چاہئے؟ (ت)

الجواب:

در شرع مطہر کفارہ مرگنا ہے را باشد کہ در شناعت از حد نگزرد و ہرچہ قبحش از حد گزشت تطہیر بکفارہ را نپذیردوبے توبہ صادقہ حکم بمحویتش

شرع مطہر میں کفارہ اس گناہ کا ہو تا ہے کہ وہ برائی میں حد سے بڑھ کر نہ ہو،اور جو شخص اپنے گناہ میں حد سے تجاوز کر جائے تو وہ کفارہ سے پاک نہیں ہو سکتا

 


 

 



Total Pages: 688

Go To