Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

رسالہ

الجوھر الثمین فی علل نازلۃ الیمین١٣٣٠ھ

(قسم کی مصیبت سے متعلق قیمتی جوھر)

 

مسئلہ۲۱۴:              از شمس آباد ضلع اٹك مرسلہ جناب مولٰنا مولوی قاضی غلام گیلانی صاحب ١١محرم شریف ١٣٣٠ھ

چہ می فرمایند علمائے اندریں مسئلہ کہ زید از پسر خود بوجہ امرے خلاف مرضی ناراض شدہ زن خود راگفت کہ اگر ایں پسر مرادر خانہ گزاشتی تو برمن سہ طلاق طلاق ہستی باز بعد از چند مدت بوجہ عذر خواہی پسرش زید خود ازاں پسر راضی شدودر خانہ گذاشت وزن اوچیزے ازلاونعم نگفت آیا آں زن برزید طلاق شد یانہ؟بینواتوجروا۔

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید کسی ناپسندیدہ معاملہ پر اپنے بیٹے سے ناراض ہوا تو زید نے اپنی بیوی کو کہا اگر تونے میرے اس بیٹے کو گھر میں چھوڑا تو مجھ پر توتین طلاق ہے، پھر کچھ مدت کے بعد بیٹے کی معذرت خواہی پر زید اپنے اس بیٹے سے راضی ہوگیا اور گھرمیں آنے دیا، بیٹے کے گھر آنے پر زید کی بیوی نے بیٹے کو کچھ نہ کہا، نہ ہاں اور نہ ہی نہ کہا، تو کیا اس صورت میں زید کی بیوی کو طلاق ہوگئی یانہیں؟بینواتوجروا

الجواب:

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔ الحمد ﷲرب

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔ یااﷲ! تجھ سے ہی حق و صواب میں رہنمائی ہے۔ سب تعریفیں اﷲ کے لئے ہیں جو

 


 

 



Total Pages: 688

Go To