Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

بابُ الحضانۃ

(پرورش کا بیان)

 

مسئلہ١٣٥:          ٢٤رجب ١٣٠٩ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے رحلت کی،دوپسر نابالغ زوجہ اولیٰ سے جو زید کے روبرو فوت ہوچکی ہے اور تین دختر زوجہ ثانیہ سے جو حی و قائم ہے وارث چھوڑے،اب دربارہ ان بچوں نابالغان کے ولایت کی فکر در پیش ہے،نابالغان مذکورین کے اجداد میں دو شخص موجود ہیں ایك مسمی عمرو دادا کا چچازاد بھائی،دوسرا بکر دادا کا ماموں زاد بھائی جس کو مسمی زید مورث کی حقیقی ہمشیرہ جوان پانچوں نابالغان کی حقیقی پھوپھی ہے منسوب ہے،اور تین پھوپھی حقیقی بیاہی ہندہ و معصومہ و صدیقہ اور دختران مذکورین کی والدہ اور پسران مذکورین کی نانی وماموں موجود ہیں پس اس صورت میں ان پانچوں نابالغان کی ولایت کا استحقاق کس کس شخص کو مرتبہ حاصل ہے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں دونوں کا حقِ حضانت ان کی نانی کو ہے کہ سات٧ برس کی عمر تك اس کے پاس رہیں گے جوانی تك عمرو کے پاس کہ دادا کا چچا زاد بھائی ہے رکھے جائیں گے۔درمختار میں ہے:

الحاضنۃ امااو غیرھا احق بالغلام

پرورش کرنے والی ماں ہو یا کوئی اور،وہ لڑکے کی

 


 

 



Total Pages: 688

Go To