Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

اربعۃ اشہروعشرولم یظھر الحبل علم ان العدۃ انقضت من حین مضی ثلثۃ اشھر[1]اھ ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔

روایت پر عمل بہتر ہوگا،تو جب چار ماہ دس دن گزرجائیں اور حمل ظاہر نہ ہوتو معلوم ہوگا کہ اس کی عدت گزرچکی ہے جب تین ماہ پورے ہوچکے تھے اھ ملتقطا،واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ٥٢:                        از بنگالہ مسئولہ مولوی عبدالغفور صاحب                     ١٩ذیقعدہ ١٣١٩ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ صغیرہ مطلقہ ہو یا متوفیہ الزوج مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ شرعًا اس کے لئے عدت ہے یانہیں اور حدِ صغر کہا ں تك ہے؟بینواتوجروا(بیان کرکے اجر حاصل کرو)

الجواب:

وفات کی عدت عورت غیر حامل پر مطلقا چار مہینے دس دن ہے خواہ صغیرہ ہو یاکبیرہ،مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اور طلاق کی عد ت غیر مدخولہ پر اصلًا نہیں اگرچہ کبیرہ ہو اور مدخولہ پر یعنی جس سے خلوت واقع ہولی اگرچہ خلوت فاسد ہو یانکاح فاسد میں حقیقۃً وطی کرلی غیر حیض والی کےلئے تین مہینے ہیں خواہ صغیرہ ہو کہ ابھی حیض آیا ہی نہیں یا کبیرہ آئسہ کہ اب عمر حیض کی نہ رہی۔درمختار میں ہے:

العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعا اوکبر بان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھر ان وطئت فی الکل ولو حکمًا کالخلوۃ ولو فاسدۃ والعدۃ للموت اربعۃ اوکتابیۃ تحت مسلم ولو عبدافلم یخرج عنھا الاالحامل[2]والخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ [3]اھ ملتقطا۔

بچپن کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو کہ وہ ابھی نو سال سے کم عمر ہے یا بڑھاپے کی وجہ سے کہ وہ عمر رسیدہ ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ حیض والی نہیں ہے توان کی عدت تین ماہ ہوگی جبکہ حقیقۃً وطی یا حکمًا یعنی خلوت ہوچکی ہو،اگرچہ خلوتِ فاسدہ ہو،اور موت والی کی عدت مطلقًا چار ماہ دس دن ہے بیوی مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اگرچہ نابالغہ ہو یا کتابیہ مسلمان کے نکاح میں اگرچہ مسلمان غلام ہو موت کی عدت کا یہی حکم ہے اس حکم سے صرف حاملہ بیوی خارج ہے کہ اس کی عدت وضع حمل ہے،اور فاسد نکاح میں خلوت سے عدت واجب نہیں ہوتی اھ ملتقطا(ت)

 


 

 



[1] ردالمحتار باب العدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٦٠١

[2] درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥٦۔٢٥٥

[3] درمختار باب العدۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٥٦۔٢٥٥



Total Pages: 688

Go To