Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

 

باب العدّۃ

(عدّت کا بیان)

مسئلہ ٥١:                         ٢٣رجب ١٣٢٢ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جس کی عمر اس وقت بارہ ١٢ برس ہے کوئی علامت ببلوغ کی پائی نہیں جاتی،اس حالت میں اس کو شوہر طلاق دے تو عدت بیٹھے گی یانہیں؟اور اس کی شادی کو عرصہ تین برس کاگزرا تھا۔بینوا توجروا

الجواب:

اگر اب تك شوہر سے خلوت نہ ہوئی تھی تو اصلًا عدت نہیں اسی وقت اس کا نکاح کیا جاسکتا ہے اور اگر شوہر اس کے پاس جا چکا تھا تو چار مہینے دس دن انتظار کرائیں،اگر اس مدت میں عورت کو حمل ظاہر ہوتو وضع حمل تك عدت بیٹھے،اور اگر حمل ظاہر نہ ہوتو عدت تین ہی مہینے گزشتہ گزرچکی آگے انتظار نہ کرایا جائے،

فی ردالمحتار فی البحر عن الامام الفضلی انھا اذاکانت مراھقۃ لاتنقضی عدتھا بالاشھر،بلایوقف حالھا حتی یظھر ھل حبلت من ذٰلك الوطی ام لا،فان ظھر حبلھا اعتدت بالوضع والافبالاشھر قال فی

ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں امام فضلی سے منقول ہے کہ جب مطلقہ عورت مراہقہ ہوتو وہ اپنی عدت مہینوں کے حساب سے نہ گزارے بلکہ اس کی عدت کا حال اس بات پر موقوف رہے گا کیا اس کو حمل ٹھہرا ہے یانہیں،اگر واضح ہوجائے کہ حمل ہوا ہے تواس کی عدت وضع حمل قرار پائے گی ورنہ عدت تین ماہ

 


 

 



Total Pages: 688

Go To