Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

حرام سمجھتا ہوں طلاق دینا میری نیت میں نہ تھا،اگر یہ بیان واقعی ہے تو صورت ظہارکی ہے،

فی العالمگیریۃ لو قال لھا انت علی مثل امی ان نوی التحریم اختلفت الروایات فیہ والصحیح انہ یکون ظہاراعند الکل کذافی فتاوٰی قاضی خاں اھ[1] ملخصا، وفی ردالمحتار عن البحر منی وعندی ومعی کعلی [2]اھ اقول وانت تعلم ان  سمجھتا ہوں،بلساننا یودی مؤدی عندی بلسان العرب۔

 

عالمگیری میں ہے:اگر خاوند نے کہا"تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے"اگر اس سے حرام کرنے کی نیت کی ہوتو اس میں روایات کا اختلاف ہے،اور صحیح روایت یہ ہے کہ یہ ظہار ہوگا سب کے نزدیك جیسا کہ فتاوٰی قاضی خان میں ہے اھ ملخصًا،

اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ"اگر تو مجھ پر"کی بجائے"مجھ سے،میرے ہاں،میرے ساتھ"کے الفاظ کہے تو وہ بھی"مجھ پر"کے حکم میں ہوں گے۔ اقول:(میں کہتا ہوں)ہماری زبان میں"سمجھتا ہوں"کا لفظ عربی زبان میں"عندی"کے قائم مقام ہے۔(ت)

پس صورت مسئوہ کا حکم یہ ہے کہ عورت نکاح سے نہ نکلی مگر اسے اس کے ساتھ صحبت کرنا یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لینا یا شہوت سے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا یا اسی طور پر اس کی شرمگاہ دیکھنا یہ سب باتیں حرام ہوگئیں اور ہمیشہ حرام رہیں گی جب تك کفارہ ادا نہ کرے،

فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار یصیربہ مظاھر افیحرم وطؤھا علیہ ودواعیہ من القبلۃ والمس والنظر الی فرجھا بشھوۃ اما المس بغیر شھوۃ فخارج بالاجماع نھر،وکذا یحرم علیھا تمکینہ ولایحرم النظر الٰی ظھرھا اوبطنھا ولاالی الشعر

تنویر الابصار،درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ ان الفاظ سے وہ شخص ظہار کرنے والا قرار پائے گا،لہذا بیوی سے وطی اور وطی کے دواعی اس پر حرام ہوجائیں گے،وطی کے دواعی بوس وکنار اور شہوت سے بیوی کی شرمگاہ پر نظر ڈالنا وغیرہ ہیں لیکن بغیر شہوت چھونا اس حکم سے بالاجماع خارج ہے،نہر اور یونہی بیوی پر خاوند کو جماع کا موقعہ دینا حرام ہے،اوربیوی کی پشت، پیٹ،چھاتی اور بالوں

 


 

 



[1] فتاوی ہندیہ الباب التاسع فی الظہار نورانی کتب خانہ پشاور ١/٥٠٧

[2] ردالمحتار باب الظہار داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/٥٧٥



Total Pages: 688

Go To