Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

یعنی مذہب یانسب یا پیشہ یا چال چلن میں ایساکم نہ تھا اس سے نکاح اولیائے زن کے لئے باعثِ ننگ وعار ہوتو اس صورت میں اگرچہ عورت کوبعد ببلوغ فسخ کرانے کا اختیار ملتا ہے مگر جبکہ بالغ ہوتے ہی فورًا اس سے اظہار ناراضی کرے کہ مجھے یہ نکاح منظور نہیں،چارہ کاریہ ہے کہ اس سے طلاق لی جائے یہ اس صورت میں کہ وہ اسلام پر قائم ہو،سائل نے نہ لکھا کہ وہ نماز روزہ پر عورت سے کیا مضحکہ کرتا ہے،ا گر وہ مضحکہ نماز روزہ کی طرف راجع ہوتو وہ اسلام ہی سے نکل گیا اور عورت اس کے نکاح سے خارج ہوگئی،اور اگر واقعی اب تك خلوت نہیں ہوئی تو عدت کی بھی حاجت نہیں،ابھی جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

__________________


 

 



Total Pages: 688

Go To