Book Name:Fatawa Razawiyya jild 13

 

 

 

بابُ الخُلع
(خلع کا بیان)

 

مسئلہ٣٨:                       از ریاست رامپور محلہ مردان خاں مرسلہ سید محمد نور صاحب                          ٦شوال ١٣١٩ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زوجین میں باہم نزاع وجھگڑا رہتا تھا اور کسی صورت سے مصالحت نہیں ہوتی تھی آخر الامر زوجین نے چند اہل محلہ کو جمع کیا،خلاصہ یہ کہ زوجین نے اپنی علیحدگی ہونے کا تصفیہ چاہا،اہل محلہ نے تصفیہ اس طرح پر کیا کہ جو اشیائے موجودہ زوجہ کی تحت میں تھیں مثل پلنگ وصندوق وزیور وغیرہ زوجہ کو دلوادئے گئے اور زوجہ سے کل مہر بخشوادیا اور زوج نے طلاق دی اور لفظ طلاق کا ایك مرتبہ یا دو مرتبہ کہا،آیا یہ طلاق رجعی واقع ہوئی یا بائن؟کتب معتمدہ حنفیہ سے تفصیلًا وتشریحًا جواب مرحمت فرمائیے۔بینواتوجروا۔

الجواب:
اگر اس تصفیہ یاباہمی مکالمات یا قرا
ئن حالات سے واضح تھا کہ یہ طلاق اس معافی مہر کے عوض دی گئی تو طلاق بائن ہوئی،

فی فتح القدیر ثم ردالمحتار قال ابرئینی من کل حق یکون للنساء علی الرجال ففعلت فقال فی فورہ طلقتك وھی

فتح القدیر میں ہے اور پھر ردالمحتار میں کہ اگر خاوند نے بیوی کوکہا تو مجھے ان تمام حقوق سے بری کردے جو بھی بیوی کےلئے خاوند کے ذمہ ہوتے ہیں،تو بیوی نے ایسا کردیا تو اس کے ساتھ متصل فورًا خاوند نے

 


 

 



Total Pages: 688

Go To