Book Name:Fatawa Razawiyya jild 11

اوراگر ہندہ کے لئے اس قسم کا کوئی ولی نہیں یا جو ہیں وہ کل یا بعض یا دو صورت تفاوت درجہ صرف ولی اقرب پیش از نکاح باوجود وقوف بحالات زید صراحۃً اپنی رضامندی ظاہر کرچکا ہو تو بشرطیکہ ہندہ بالغہ ہو صحت نکاح میں کچھ شبہہ نہیں۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٤٣٦:                           از شہر کہنہ                  ٤ رمضان مبارك ١٣١٣ھ

ماقولہم رحمہم الله تعالٰی اس مسئلہ میں کہ پٹھان کے لڑکے کا سید کی لڑکی سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا

الجواب:

سائل مظہر کہ لڑکی جوان ہے اور اس کا باپ زندہ،دونوں کو معلوم ہے کہ یہ پٹھان ہے اور دونوں اس عقد پر راضی ہیں،باپ خود اس کے سامان میں ہے،جب صورت یہ ہے تو اس نکاح کے جواز میں اصلا شبہہ نہیں کما نص علیہ فی رد المحتار وغیرہ من الاسفار(جیساکہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں اس پر نص ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٤٣٧: از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ١٢ ربیع الاول شریف ١٣١٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نکاح ہندہ بعمر چار سالہ ہوا تھا اور اس وقت عمر اس کے زوج بکر کی پانچ سال تھی جب بکر سن تمیز کو پہنچا تو مردی سے خارج ہے اور اور بہمراہی ہیز رقص کرتا ہے تو نامردی او ران حرکات زشت کے باعث والد ہندہ عار وکسر شان سمجھ کر دختر کے بھیجنے میں منکر ہے اور اب دختر کی عمر چودہ سال ہے،شوہر کو پسند وقبول نہیں کرتی،تو اس صورت میں دربارہ جواز وعدم جواز نکاح کا کیا حکم ہے اور بعد تفریق دین ومہر ا س کا ذمہ شوہر پر عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا

الجواب:

اگرچہ مخنثوں کے ساتھ رقص کرنا بیشك زوال کفاءت کاباعث ہے کہ ایسے شخص سے رشتہ ضرور موجب ننگ وعار ہے مگر کفاءت کا اعتبار ابتدائے نکاح کے وقت ہے اگر اس وقت کفو ہو پھر کفاءت جاتی رہے تو اس کا لحاظ نہ ہوگا۔

فی الدرالمختار والکفاءۃ اعتبارھا عند ابتداء العقد فلا یضرزوالھا بعدہ فلو کان وقتہ کفوا ثم فجر لم یفسخ [1]۔

درمختار میں ہے کہ کفو کا اعتبار ابتداء نکاح کے وقت ہے لہذا نکاح کے بعد اگر کفو ختم ہوجائے تو مضر نہیں جیساکہ نکاح کے وقت صالح ہونے کی وجہ سے کفو تھا اور بعدمیں وہ فاسق بن گیا تو نکاح فسخ نہ ہوگا۔(ت)

 


 

 



[1] درمختار باب الکفاءۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/١٩٥



Total Pages: 739

Go To