Book Name:Fatawa Razawiyya jild 11

 

 

 

 

باب الکفائۃ فی النکاح

(نکاح کے سلسلہ میں کفو کا بیان)

 

بسم الله  الرحمن الرحیم

 

مسئلہ ٤٢٩:            از مرا د آباد محلہ قانونگویاں مرسلہ محمد نبی خاں صاحب رئیس اوائل                 جمادی الاولٰی ١٣٠٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ بالغہ شریف زادی جس کے باپ نے انتقال کیا اور بھائی کوئی نہیں صرف عمرو اس کا حقیقی چچا ولی شرعی ہے،مادرہندہ نے غیبت عمرو میں باذن ہندہ بے اطلاع عمرو اس کا نکاح زید کم قوم غیر کفو یعنی قصاب مالدار سے کردیا،جب عمرو آیا اور مطلع ہوا اس خیال سے کہ نکاح تو ہوہی گیا مصلحۃً منظور کرلیا اور ہندہ کی رخصتی کردی برضائے ہندہ وطی بھی واقع ہوئی،اب ہندہ اپنے باپ کے یہاں چلی آئی اور تا ادائے مہر معجل زید کے یہاں جانا یا اسے اپنے نفس پر قدرت دینا نہیں چاہتی،اس صورت میں شرعًا کیا حکم ہے اورہندہ کوناشزہ کہا جائے گا یا نہیں؟ اور اسے زید کے یہاں نہ جانے اور اپنے نفس کے بچانے کا اختیار ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا

الجواب:

صورت مستفسرہ میں نہ ہندہ ناشزہ اور نہ زید کو اس پر دسترس،نہ زنہار اسے قدرت دیں گے کہ ہندہ کو اپنے یہاں بلائے،نہ ہر گز ہندہ کو اجازت دیں گے کہ بطور زوجیت اس کے یہاں جائے بلکہ شرعًا دونوں پر واجب ہے کہ اس نکاح فاسد وواجب الفسخ سے دست برداری کریں اور زید نہ مانے تو ہندہ پر لازم ہے کہ بطور خود


 

 



Total Pages: 739

Go To