We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 11

 

 

 

باب المحرمات

(محرمات کا بیان)

 

مسئلہ ١٥٥:              ١٩ رجب ١٣٠٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے ابن الابن زید کو دودھ پلایا،اب زید کا نکاح اپنی نواسی لیلی بنت سلمی سے کیا چاہتی ہے آیا یہ نکاح شرعا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

ہر گز جائز نہیں کہ جب زیدنے اپنی دادی کا دودھ پیا تووہ اس کی ماں ہوئی،اور جب وہ اس کی ماں ہوئی تو اس کی ساری اولاد خواہ اس دودھ سے پہلے پیداہوئی ہو یابعد،سب اس کے بھائی بہن ہوئے،اور جب وہ سب بہن بھائی ہیں تو ان کی بیٹیاں اس کی بھتیجیاں بھانجیاں ہیں،بس لیلٰی بھی کہ سلمٰی بنت ہندہ کی دختر ہے زید کی بھانجی ہے اور زید اس کا ماموں ہے۔اور ماموں بھانجی کا نکاح کہیں حلال نہیں۔فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:

یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع واصولھما وفرو عھما حتی المرضعۃ لو ولدت قبل ھذا الارضاع اوبعدہ وارضعت رضیعھا فالکل اخوۃ الرضیع واخواتہ واولادھم اولاداخوتہ واخواتہ[1] اھ ملخصا۔

دودھ پینے والے بچے رضاعی ماں باپ اور ان کے اصول وفروع حرام ہوجاتے ہیں حتی کہ اگر وہ دودھ پلانے سے قبل یا بعد اس نے کوئی بچہ جنا ہو یا کسی کو دودھ پلایاہو تو وہ سب اس کے بھائی بہن ہوں گے اور ان کی اولاد اس کے بھتیجے اور بھتیجیاں اور بھانجے اور بھانجیاں ہوں گی۔اھ

 ملخصًا(ت)

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیہ کتاب الرضاع نورانی کتب خانہ پشاور ١/٣٤٣



Total Pages: 739

Go To