Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

پھر روضہ منورہ میں یعنی جو جگہ منبر انور وروضہ مطہرہ کے ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا آکر دو رکعت نفل پڑھے اور دعا کرے ۔ اسی طرح مسجد شریف کے ستونوں کے پاس نمازیں پڑھے۔ دعائیں مانگے کہ محل برکات ہیں۔ خصوصًا بعض عــــہ۱ میں خصوصیات خاصہ، والله تعالٰی اعلم

مسئلہ: اس سواد جنت آباد کی اقامت غنیمت جانے، جُہد کرے کہ کوئی نفس بیکار نہ گزرے۔

مسجدا نور سے ضروریات کے سوا باہر نہ جائے۔ باطہارت حاضر رہے مگر حاشا کہ دنیوی باتوں، عبث کاموں میں وقت ضائع نہ کرے۔

مسئلہ: ہمیشہ جلوس مسجد عــــہ۲ میں نیت اعتکاف رکھے ،اور روزہ نصیب ہو خصوصًا ایّام گرما  میں تو

عــــہ۱: حضرت والد قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں سات ستونوں کی تفصیل فرمائی قال رضی الله تعالٰی عنہ ان میں ایك ستون وہ ہے جو محراب مکرم کے دہنی طرف مصلا ئے نبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی علامت ہے، ستونِ حنانہ اس کے آگے تھا۔ دوسرا ستون ام المومنین عائشہ صدیقہ کا کہ امام اگر مصلائے شریف میں نماز پڑھے تو اس کے پیچھے کی صف میں جو ستون واقع ہوں ان میں سے منبر سے جانب مشرق تیسرا ستون ہے۔ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے چند روز اس کی طرف نماز پڑھی۔ اس کے پاس دعا مقبول ہوتی ہے، تیسرا اسطوانہ توبہ، اور وہ ستون عائشہ اور ستون ملاصق بہ دیوار حجرہ کے بیچ میں ہے، نبی صلی الله تعالیٰ تعالیٰ علیہ وسلم  نے ا س کی طرف نماز پڑھی اور وہاں اعتکاف فرمایا تھا۔ چوتھا اسطوانہ السریر کہ جالی شریف سے ملتصق ہے اسطوانہ توبہ سے مشرق کو نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے پاس اعتکاف کیا۔ پانچواں ستون علی رضی الله تعالیٰ عنہ اور وہ شمال کی طرف اسطوانہ توبہ کے پیچھے ہے جناب مرتضی کر م الله وجہہ یہاں بیٹھتے اور نماز پڑھتے۔ چھٹا اسطوانہ الوفود کہ وہ اسی جانب اسطوانہ علی کے پیچھے ہے اس میں اور اسطوانہ توبہ میں صرف ستون علی حائل ہے، نبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم اور افاضل صحابہ یہاں رونق افروز ہوتے____ ساتواں اسطوانہ التہجد کہ بیت فاطمہ رضی الله تعالیٰ عنہ کے پیچھے ہے ۱۲ منہ

عــــہ۲:روایت مفتی  بہا پر اعتکاف کے لیے کوئی مقدارمعین  نہیں ایك لمحہ کا بھی ہوسکتاہے، نہ اس کے لیے روزہ شرط، توآد می کو ہر مسجد میں ہر وقت اس کا لحاظ کرنا چاہئے کہ جب داخل ہو اعتکاف کی نیت کرلے جب تك رہے گا اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا،پھر یہ نیت اسے کچھ پابند نہ کرے گی۔ جب چاہے باہر آئے اسی وقت اعتکاف ختم ہوجائے گا فان الخروج فی النفل المطلق منہٍ لامفسد کما نصوا علیہ(کیونکہ نفلی طواف میں مسجد سے نکلنا اعتکاف کا اختتام ہے مفسد نہیں جیسا کہ اس پر تصریح کی گئی ہے۔ ت) لوگ اپنی ناواقفی یابے خیالی سے اس ثواب عظیم کو مفت کھوتے ہیں، وفقنا اﷲ تعالیٰ للحسنات بجاہ سید الکائنات علی افضل الصلٰوات والتحیات اٰمین ۱۲ منہ


 

 



Total Pages: 836

Go To