Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

 

بے ایذا ئے احد ے تیزی کریں اور اس عرصہ میں غضب وعذاب الہٰی سے پناہ مانگیں،جب منیٰ پہنچیں سب کاموں سے پہلے جمرہ العقبہ کوکہ ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلا، جائیں اور بطن وادی میں سواری پر جمرہ سے پانچ گز شرعی چھوڑ کر کھڑے ہوں کہ منیٰ دہنے ہاتھ پر رہے اور کعبہ بائیں پر۔ پس رخ بجمرہ سات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہاتھ خوب اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو، ہر ایك پر"بسم اﷲ اﷲ اکبر"کہہ کر ماریں۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تك پہنچیں ورنہ تین گز شرعی کے فاصلہ تك گریں، اس سے زیادہ میں وہ کنکری شمارمیں نہ آئے گی، پہلی کنکری سے لبیك موقوف کریں، جب سات پوری ہوجائیں فورًا ذکر ودعا کرتے پلٹ آئیں، اب قربانی عــــہ۱  میں کہ متمتع وقارن پر واجب او رمفرد کو مستحب ہے مشغول ہو، اگر ذبح کرنا  آئے خود ذبح کریں ورنہ ذبح میں حاضر ہوں، دنوں ہاتھ اور ایك پاؤں اس کا باندھ کر روبقبلہ لٹائیں او رتکبیر کہہ کر نہایت تیز چھری بسر عت تمام پھیردیں، بعدہ ہاتھ پاؤں کھول دیں، اونٹ ہو تو اسے کھڑا کرکے سینہ میں منتہائے گلو پر نیز ماریں کہ سنت یونہی ہے اور اس کا ذبح مکروہ، اگر چہ حلت میں کافی ہے۔ بعدفراغ اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے قبول حج وقربانی کی دعا کریں، جب تك سرد نہ ہو کھال نہ کھینچیں کہ ایذا ہے، بعدہ رو بقبلہ بیٹھ کر مرد سارا سر منڈائیں کہ افضل ہے یابال کتروائیں کہ رخصت ہے، ابتداء دہنی جانب سے کریں، وقت حلق اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد کہتے جائیں، بعد فراغ بھی کہیں، سب مسلمانوں کی مغفرت مانگیں، بال دفن کردیں، حلق سے پہلے ناخن نہ کتروائیں، خط نہ بنوائیں، عورتوں کو حلق روانہیں ایك پور برابر بال کتروادیں، اب جماع ودواعی جماع کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلا ل ہوگیا۔ افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ طواف فرض کے لیے جسے "طواف زیارۃ"کہتے ہیں، مکہ معظمہ جائیں بدستور مذکور پیادہ پا باطہارت وستر عورت بے اضطباع عــــہ۲ کریں، اسی طرح عــــہ۳  جو مفرد متمتع مثل قارن رمل وسعی حج دونوں خواہ صرف سعی حج، سے کسی طواف عــــہ۴ کا مل باطہارت میں

عــــہ۱: یہ قربانی عیدکی قربانی سے جدا ہے وہ مسافر پر اصلًا نہیں اور مقیم مالدارپر واجب ہے اگر چہ حاجی ہو ۱۲ منہ

عــــہ۲: ہم اوپر لکھ چکے کہ اس طواف میں اضطباع اصلًا نہیں ا گر چہ پیشترنہ کیا ہو ۱۲ منہ

عــــہ۳:تو ضیح مسئلہ یہ ہے کہ قارنِ کو طواف قدوم میں رمل وسعی کرلینی افضل ہے وھذہ معنی قولہ مثل قارن(اس کے قول "مثل قارن"کا یہی معنیٰ ہے۔ ت) او رمفرد کو بھی بخیال زحمت وقلت فرصت اجازت اور متمتع کے لیے اگرچہ طواف قدوم نہیں کما بینامن قبل (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیاہے ۔ت) مگرا سے(باقی برصفحہ آئندہ)


 

 



Total Pages: 836

Go To