Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

حرام ہوگیا ۔پَر لبیك کہنا سنت عــــہ اور مُحرِم کے لیے ہر ذکر سے بہتر ہے جہاں تك ہوسکے اس کی کثرت کرے۔اس کے

عــــہ: وقع فی اللباب ان التلبیۃ مرۃ فرض [1]وفی النھر والدر انھا مرۃ شرط قال القاری [2] وھو عند الشروع لا غیر[3] لکن التحقیق ان الفرض والشرط انما ھو مطلق الذکر لاخصوص التلبیۃ کما حققہ فی البحر قال وقول من قال انھا شرط مرادہ ذکر یقصد بہ التعظیم لاخصوصھا [4] وتمامہ فی ردالمحتار اقول و قدنص فی اللباب قبیل ما مران کل ذکر یقصد بہ تعظیم اﷲ سبحانہ یقوم مقامہ التلبیۃ [5] اھ وفیہ فی صدر باب الاحرام شرائط صحتہ الاسلام والنیۃ و الذکر اوتقلید البدنۃ [6] اھ ثم عد من سننہ تعیین التلبیۃ قال القاری ھناك التلبیۃ اوما یقوم مقامھا من فرائض الاحرام عند اصحابنا [7] اھ وفی الدر یصح الحج بمطلق النیۃ و لو بقلبہ

لباب میں مذکور ہے کہ تلبیہ ایك مرتبہ فرض ہے،اور نہر اور در میں ہے کہ ایك بار شرط ہے۔ ملا علی قاری نے کہا کہ یہ صرف شروع میں ہے۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ فرض اور شرط تلبیہ نہیں بلکہ مطلقًا ذکر ہے جیسا کہ بحر میں اس کی تحقیق ہے انھوں نے کہا کہ جس نے کہا تلبیہ شرط ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تعظیم پر مشتمل ذکر نہ کہ خاص تلبیہ،مکمل بحث ردالمحتار میں ہے اقول: لباب میں تصریح ہے کہ جو ذکر تعظیم پرمشتمل ہو وہ تلبیہ کے قائم مقام ہوتا ہے اھ اسی میں باب الاحرام کے شروع میں ہے کہ احرام کے صحیح ہونے کی شرط اسلام، نیت، ذکر اور بُدنہ کے گلے میں قلادہ باندھنا ہے اھ پھر اس کی سنتوں میں تلبیہ کو ذکر کیا، ملا علی قاری نے کہا کہ یہاں تلبیہ یا اس کے قائم مقام احرام کے فرائض ہیں ہمارے اصحاب کے ہاں اھ در میں ہے کہ حج، مطلق خواہ صرف دل سے(باقی اگلے صفحہ پر)

 


 

 



[1] لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلیبۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰

[2] درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۶۳

[3] مسلك متقسط مع ارشادی الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰

[4] بحرالرائق باب الاحرام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ /۳۲۲

[5] لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰

[6] لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲

[7] مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب الاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲



Total Pages: 836

Go To