Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

جیسے رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے، گھر کا اثاثہ، اہل وعیال کا نفقہ، قرضخواہوں کا قرض، پیشہ ور کو آلات حرفہ۔ سوداگر کو اتنی پونجی جس سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی کفایت کے لائق کما سکے، طالب علم کے لیے ضروری  عــــہ۱ دینی کتابیں، اور جنھیں سواری ہتھیار کی حاجت ہو ان کے لیے یہ بھی۔

ف: یہ استطاعت حج کے مہینوں میں درکار ہے یعنی شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ، اور جو دُور کے ساکن ہیں کہ پہلے سے چلتے ہیں تو جب اس شہر کے لوگ جائیں ورنہ اس سے پہلے اگر استطاعت تھی اور یہ وقت نہ آنے پا یا کہ جاتی رہی تو حج فرض عــــہ۲ نہ ہوگا،

ف: ہمارے امام کے نزدیك تندرستی شرط ہے یعنی بدن میں وہ آفت نہ ہو جو سفر سے معذور کردے جیسے اپاہج، مفلوج، اتنا بوڑھا کہ سواری پر نہ ٹھہر سکے، مگر صاحبین فرماتے ہیں ان پر حج بدل کرانا فرض ہے۔

م: صفۃ الاحرام

ش: یعنی احرام کی کیفیت اور اس کے سنت وفرض کا بیان

م:                                                                                  تجود عن المخیط واجب                                                                              لِمُحْرِمٍ من غیر عذر لازب

 

ت: سِلے کپڑے اتارنے واجب ہیں احرام والے پر، اگر کوئی عذر لاحق نہ ہو  عــــہ۳ ۔

ف: اگر کسی عذر کے سبب سلا کپڑا پہن لے گا تو گنہگار نہ ہوگا ہمارے نزدیك ۱۲ منہ ورنہ کفارہ تو ہر حال دینا لازم آئے گا۔

ت: یونہی احرام دو کپڑوں میں ہے بے سِلے پاك ستھرے۔

ش: یعنی جب احرام چاہے سِلے کپڑے، عمامہ، ٹوپی، موزے اتارے، چادر، تہبند بے سِلی اوڑھے باندھے۔

عــــہ۱ : منطق فلسفہ کی کتابیں اس میں داخل نہیں ۱۲ منہ)

عــــہ۲: یعنی جس سال استطاعت ہوئی اسی سال وقت آنے سے پہلے جاتی رہی ورنہ اگر ایك سال وقت تك باقی تھی تو حج فرض ہوچکا اب ساقط نہ ہوگا اگر چہ دوسرے برس وقت سے پہلے استطاعت زائل ہوجائے ۱۲)

عــــہ۳:  اللازب اللازم ولایشترط لزوم العذر بل وجودہ حین ارتکاب المحظور فلذافسرہ باللاحق ۱۲ منہ (م)

لازب، لازم کو کہتے ہیں، جبکہ عذر کا لزوم نہیں بلکہ ممنوع کے ارتکاب کے وقت اس کا وجہ شرط ہے، اسی لیے اس کی تفسیر میں لاحق کہاہے ۱۲ منہ (م)

 


 

 



Total Pages: 836

Go To