Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ا س قدراس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا توا س پر حج فرض ہے مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہوگا اگر چہ فرض ساقط ہوجائے گا، حدیث میں ارشاد ہوا جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب وہ لبیك کہتا ہے فرشتہ جواب دیتا ہے:

لا لبیك ولا سعدیك حتی تردما فی یدیك وحجك مردود علیك [1]۔

نہ تیری حاضری قبول نہ تیری خدمت قبول، اورتیرا حج تیرے منہ پر مردود، جب تك تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس نہ دے۔

اس کے لیے چارہ کار یہ ہے کہ قرض لے کر فرض ادا کرے۔

(٢) عذر اگر ایسا ہو کہ مانع سفر ہے مثلًا آنکھیں یا پاؤں نہیں اور اس عذر کے زوال کی کوئی امید نہیں تو اپنی طرف سے حج بدل کرادے، اور اگر عذر مانع سفر نہیں تو خود جائے، اور اگر مانع سفر ہے مثلًا زوال کی امید ہے جیسے تپِ شدید یا درد وغیرہ تو حج بدل نہیں کراسکتا بلکہ زوال کا انتظار کرے، جب شفاء ہوجائے خود جائے، اور اگر قبل شفا وقت آجائے تو حج بدل کی وصیت کرجائے، اگر اپنی طرف سے کوئی تقصیرنہ کی تھی یعنی جب سے حج فرض ہوا تھا نہ مانع سفر لاحق تھا اور قبل زوال وقت آگیا اس پر مواخذہ نہ ہوگا، اورا گر ایك سال بھی ایسا گزرگیا تھا کہ جاسکتا تھا اور نہ گیا تو گنہ گار ہوا، استغفار واجب ہے۔ اور حج بدل کرانا فرض ہے، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٣٠٨:                           مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب از قصبہ نجیب آ باد ضلع بجنور                              ٢٠ صفر ١٣٣٢ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں حضور نے پہلے استفتاء میں بابت حج بیت الله شریف یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے پاس مال رشوت وغیرہ کا شامل ہے اس کو چاہئے قرض لے کر حج ادا کرے انتہی، اب آئندہ یہ ارشاد فرمائے کہ وہ قرضہ کہا ں سے ادا کرے؟ معترض کہتا ہے کہ اول تو جب رشوت وغیرہ کا روپیہ اس کی ملك نہیں ہے تو اس کے پاس اور کچھ نہیں اور قرض لے کر حج ادا کرنے کی ممانعت ہے،ا ور بالفرض اگر قرض لے کر حج کے واسطے رکھا اور اپنے روپے سے جو رشوت وغیرہ کا اس کے پاس ہے اس سے قرض ادا کردیا تو وہ کیا ہوا اسی اپنے روپے کی وجہ سے توا س نے قرض لیا تھا لہذا یہ روپیہ بھی بعینہٖ اپنے ہی روپے کی مثل ہوا تواس واسطے دلیل و ثبوت کافی ارشاد ہو کہ تسکین ہوجائے یہ شخص حج کے واسطے جانے کا بہت ہی مشتاق ہے۔


 

 



[1] ارشاد الساری الیٰ مناسک لملا علی قاری باب المتفرقات دارالکتاب العربی بیروت ص٣٢٣



Total Pages: 836

Go To