Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

دونوں طرف مدت سفر ہے توبلا سخت تر ہے اور جانا یا آنا کوئی بھی بے گناہ نہیں ہوسکتا، مگربہ حصول محرم یا تحصیل شوہر، شوہر کے قبضے میں اگر ہمیشہ رہنا نہ چاہے تو اس کا یہ علاج ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ میرا کام میرے ہاتھ میں رہے گا جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق بائن دے لوں، او راگر یہ بھی ناممکن ہو تو سب طرف سے دروازے بند ہیں پوری مضطرہ ہیے، اگر ثقہ معتمدہ عورتیں واپسی کے لیے ملیں تو مذہب امام شافعی رضی الله تعالیٰ عنہ پر عمل کرکے ساتھ واپس آئے، اور جانے کے لیے ملیں تو انکے ساتھ جائے انھیں کے ساتھ واپس آئے کہ تقلید غیر عندا لضرروۃ بلاشبہہ جائز ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) اس لیے ارشاد ہوا کہ اختلاف اصحابی لکم رحمۃ [1](میرے صحابہ کا اختلا ف تمھارے لیے رحمت ہے۔ ت) ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند ربی فلیحر ر ولیراجع (یہ مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۳۰٦و ۳۰۷: مرسلہ حافظ محمدا ۤیاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پور ٢٤ محرم الحرام ١٣٣٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں موافق حکم شرع شریف بموجب قرآن وحدیث عقائد اہل سنت ارشاد فر مائے الله تعالیٰ اجر عظم عطافرمائے:

(١) جس کے پاس روپیہ تنخواہ ورشوت وغیرہ کا شامل ہوا ور اس کے خرچ خانگی وغیرہ سے فاضل ہو تو اس شخص پر حج بیت الله شریف فرض ہے یا نہیں؟ اگر فرض ہے تو اس روپے سے حج ادا ہوگا یا نہیں؟ اگر نہیں ادا ہوگا توا س کے واسطے کیا صورت ہونی چاہئے کہ جس سے حج بھی ادا ہوجائے اور ثواب کا بھی مستحق ہو؟

(٢) جس شخص کے پاس روپیہ واسطے خرچ حج بیت الله شریف موجود ہے لیکن وہ شخص بوجہ پوری تندرستی نہ ہونے کے خود جانے سے معذور ہے تو اس پر حج فرض ہے یانہیں؟ اگر ہے تو وہ کس صورت سے حج ادا ہو سکتا ہے کہ جس سے یہ شخص سبکدوش ہو؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

(١) اگر اس کے پاس مال حلال کبھی اتنا نہ ہوا جس سے حج کر سکے اگر چہ رشوت کے ہزار ہا روپے ہوئے تو اس پر حج فرض ہی نہ ہوا کہ مالِ رشوت مثل مغصوب ہے وہ اس کا مالك ہی نہیں ، اور اگر مال حلال


 

 



[1] تہذیب تاریخ دمشق ترجمہ سلیمان بن کثیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٦/٢٨٥،کنزالعمال حدیث ١٠٠٢ موسسۃ الرسالہ بیروت ١/١٩٩



Total Pages: 836

Go To