Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

یہ وکیل یونہی نکاح کرے یعنی ان سے کہے میں نے فلانہ بنت فلاں بن فلان اپنی موکلہ کو اتنے مہر کے عوض اس شرط پر تیرے نکاح میں دیاکہ جب وہ عورت بعد حج اپنے گھر واپس آئے مکان میں داخل ہو فورًا اس پر ایك طلاق بائن ہو، شوہر کہے میں نے اسے اس شرط پر قبول کیا، اب بعد واپسی گھر میں آتے ہی فورًا اس کے نکاح سے نکل جائے گی جسے وہ کسی طرح نہیں روك سکتا، اور جسے مکہ معظمہ سے واپسی پر محرم ملنے کا یقین ہو یوں شرط کرے کہ مکہ معظمہ پہنچتے ہی مجھ پرطلاق بائن ہو مکہ معظمہ پہنچتے ہی طلاق بائن واقع ہوجائے گی ، مگراگر بیچ میں خلوت واقع ہو وے تو تا انقضائے ایام عدت وہاں (مکہ معظمہ )قیام لازم ہوگا اور خلوت نہ ہو تو یہ دقت بھی نہ ہوگی اور ہر حال میں جو عورت ولی رکھتی ہو اس کے لیے یہ ضرور ہوگا کہ نکاح مذکور ایسے شخص سے کرے جو قوم یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو، یا اگر ایسا شخص ہے تو ولی اس کے اس حال پر مطلع ہو کر پیش از نکاح صریح اجازت دے دے ورنہ نکاح نہ ہوگا، والله سبحٰنہ و تعالیٰ اعلم ۔

مسئلہ ٣٠٤:                           عبدالجبار خاں صاحب از محلہ جسولی بریلی                     ٨ شوال ١٣٢٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس بارے میں کہ ایك بیوہ عورت مالدار جس کو مقدور حج بیت الله شریف کے جانے کا ہو، جس کی عمر تخمینًا چالیس یا پنتالیس سال کی ہے اور اس کو بیوہ ہوئے عرصہ ٢٣ یا ٢٤ سال کا ہوا اور اس کے منہ میں دو ایك دانت داڑھ باقی ہیں اور سر کھچڑی ہے، وہ بیوہ سفر حج بیت الله شریف بوساطت یابہمراہ اپنے رشتہ کے ماموں جن کے سامنے روز پیدائش سے اس وقت تك بے پردہ مثل اپنے والدہ کے آتی ہے اور نیز اس کی اور ہمشیرگان ووالدہ وغیرہ ان کے سامنے بے پردہ آتی ہوں، اور ماموں کی عمر تخمینًا ٧٠ یا ٨٠ برس کی ہے اور وہ ماموں مع اپنی بی بی اور بچہ اور نیز ایك غلام خاوند زاد ودیگر عورات ملازمہ کے حج بیت الله شریف جاتے ہیں، اگر وہ بیوہ مذکور اپنے ایسے ماموں رشتہ دار جن کی تعریف اوپر ہو چکی ہے جس کو حقیقی ماموں سے کم خیال نہیں کیا جاسکتا ہے ان کے ہمراہ اپنے خرچ سے سفر بیت الله شریف کو جائے اور حج وزیارت سے مشرف ہو کر اپنے وطن کو واپس آجائے تو اس کی صورت دیکھنا اور اس سے ملنا اس کے رشتہ داروں کو حرام ہے یا حلال؟ یا جائز ہے یا ناجائز؟ یا ثواب پائے گی یا عذاب؟ یا کچھ نہیں؟

الجواب:

لا تبدیل لحکم اﷲ، الله کے حکم کو کوئی بدلنے والانہیں۔ رسول الله صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لا یحل لا مرأہ تؤمن باﷲ والیوم الاٰخران تسافر ثلثۃ ایام، وفی

حلال نہیں کسی عورت کو جو الله تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ ایك منزل بھی سفر کو جائے

 


 

 



Total Pages: 836

Go To