Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

وکم من بعید الدار نال مرادہ

وکم من قریب الدار مات کئیبا

وکان سیّدی العارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمہ اﷲ تعالٰی یقول:

کم من ھومعنا ولیس ھو معنا و کم من ھو بعید عنا، وھو معنا [1] اھ۔

ومن اخفی وسائس الشیطان تلبس الشر بالخیر علی الانسان، فیذھب بہ علی السیئات من باب الحسنات، و لایعرف ذٰلك الا العلماء العاملون لذا ورد ذم المتعبد بغیر فقہ وضرب لہ مثل سوء فی حدیث عند ابی نعیم فی حلیۃ الاولیاء ٢[2] عند واثلۃ بن اسقح رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ وھذا شرما اخرج الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد [3]۔

فھٰذا  الذی یرید الھجرۃ

بہت سے دور رہنے والے مراد پالیتے ہیں اور بہت سے قریب رہنے والے محروم ونامراد مرتے ہیں۔

سیدی عارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:بہت سے لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں اور بہت سے ہم سے دور ہیں مگر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اھ جس پر شیطان کے وساوس مخفی ہوں اس انسان پر شر وخیر میں التباس ہوجاتا ہے اور شیطان اسے حسنات سے سیئات کی طرف لے جاتا ہے اور اس بات سے باعمل علماء ہی آ گاہ ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بغیر دین فہمی کے عبادت کرنے والے کی مذمت آئی ہے اور ایسے عابد کی اس حدیث میں بُری مثال بیان ہوئی جو ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے، یہ اس سے سخت ہے جسے ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ایك فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔

 

 ہجرت کا ارادہ کرنے والا اگر یہ جان لے کہ

 


 

 



[1]

[2] حلیۃ الاولیاء ترجمہ ٣١٨ خالد بن معدان دارالکتاب العربی بیروت ٥/٢١٩

[3] جامع الترمذی باب ماجاء فی فضل الفقہ امین کمپنی دہلی ٢/٩٣



Total Pages: 836

Go To