Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

 

 

 

کتابُ الحج

مسئلہ ٢٧٧:                           مسئولہ واحد یارخاں صاحب از بریلی                            ٤ذی قعدہ ١٣٢٤ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کا حج کوجانا درست ہے یا نہیں؟

الجواب:

حج کی فرضیت میں عورت مرد کا ایك حکم ہے، جوراہ کی طاقت رکھتا ہواُس پر فرض ہے مرد ہو یا عورت ، جوادا نہ کرے گا عذابِ جہنّم کا مستحق ہوگا۔ عورت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ اُسے بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے، سفر کوجانا حرام، اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں، کہیں ایك دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گنہگار ہوگی، ہاں جب فرض ادا ہوجائے تو بار بار عورت کو مناسب نہیں کہ وُہ جس قدر پردے کے اندر ہے اُس قدر بہتر ہے۔ حدیث میں اس قدر ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے امہات المومنین کو حج کراکر فرمایا ھذہ ثم حصر البیوت یہ ایك حج ہوگیا اس کے بعد گھر کی چٹائیاں۔ پھر یہ بھی اولویت کا ارشاد ہے نہ کہ عورت کو دُوسرا حج ناجائز ہے، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے اس کے بعد پھر حج کیا۔ واﷲتعالٰی اعلم ۔

مسئلہ ٢٧٨تا ٢٨٠:                               از ایٹہ ٨رمضان مبارك مرسلہ اسحاق نائب مدرس تحصیلی اسکول

جناب مولانا صاحب! عرضِ حال ذیل کو ملاحظہ فرماکر جواب ضرور ضرور لکھ دیجئے گا:

(١) زید خرچ زاد راہ آمدورفت کا اپنی ذات خاص سے رکھتا ہے اگر والدین اجازتِ حج مکہ معظمہ کی نہ دیں تو حج نامبردہ کا ہوسکتا ہے یا کیا؟


 

 



Total Pages: 836

Go To