Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

قال کنا اذاصعد ناکبرنا واذا نزلنا سبحنا[1]۔

جب ہم اُوپر چڑھتے تو اﷲاکبر اور جب نیچے اُترتے تو سبحان اﷲ کہتے(ت)

یُوں ہی باب الدعا اذا ارادہ سفرا او رجع(یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب سفر کا ارادہ کرے یا سفر سے لَوٹے تو دُعا کرے۔ت)میں حدیث یکبر علٰی کل شرف [2]الخ(آپ ہربلند ی پر تکبیر کہتے۔ت)لائے  بلکہ خود حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے احادیث کثیرہ میں ذکر کو دُعا فرمایا، صحیحین میں ہے:

عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کنّا مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی سفر فکنا اذا علونا کبرنا فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایھا الناس اربعو اعلٰی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا ولکن تدعون سمیعا بصیرا[3]۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے ہے ہم حضور اکر م صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ہم بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے تم تو سننے اور دیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔(ت)

جامع ترمذی میں ہے:

عن عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خیرالدعاء دعاء یوم عرفۃ وخیرماقلت اناوالنبیون من قبلی لاالٰہ الّا اﷲ وحدہ، لاشریك لہ، لہ الملك ولہ الحمد وھو علٰی کل شئی قدیر قال الترمذی حدیث حسن غریب [4]قال مناوی خیر ماقلت ای مادعوت[5]۔

حضرت عبد اﷲبن عمرو بن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دُعا یومِ عرفہ کی دُعا ہے، اور سب سے بہتر یہ دُعا ہے جومَیں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے مانگی: اﷲکے سواکوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریك نہیں ،ملك وحمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے، ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے ،مناوی"خیر ما قلت"کا ترجمہ"جو میں نے دعا کی"کیا ہے۔(ت)

 


 

 



[1] صحیح بخاری باب التسبیح اذا ھبط وادیًاقدیمی کتب خانہ کراچی١/٤٢٠

[2] صحیح بخاری باب الدعا اذاارادسفرًاقدیمی کتب خانہ کراچی٢/٩٤٤

[3] صحیح بخاری باب الدعاء اذاعلاعقبۃقدیمی کتب خانہ کراچی٢/٩٤٤

[4] جامع الترمذی باب فی فضل لا حول ولا قوۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢/١٩٨

[5] التیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث خیر الدعاء مکتبہ الامام الشافعی ریاض ١/٥٢٥



Total Pages: 836

Go To