Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

آدھی رات ڈھلے اُس سے کم ہوتاپھر ١٥درجے رہا اُس وقت صبح ہوئی، اس بیچ میں کہ تقریبًا چار درجے انحطاط بدلا، یقینا اجماعًاوقتِ عشا تھا، تو فوتِ عشا کیا معنے، اورا گر مقدار وقت جاننا چاہو توعرض شمالی٩ْ٤ ٣٠َ-میل شمالی ٣ْ٢ ٣َ٣ =٥ْ٢ ٥٧َ+بعد سمقتی مفروض ١٠٥=٠ْ١٣ نصفہ ٥ْ٦ ٨َ٢ ٣٠ً جیبہ ٩٥٨٩٣٦٥ئ٩جیب اول و١٠٥-نصف مذکور٩ْ٣ ٣١ ٣٠ً جیبہ ٨٠٣٧٤٠٣ء جیب دوم ١٨٧٤٥٥٦ئ٠قاطع عرض پس ٤٠ً ٤٣َ ١٠ت شروع وقت عشا٠٣٧٧٦٧٦ئ٠قاطع میل ٢٠ ١٦ ١٣ شروع وقت صبح ٩٨٧٨٩٩٦ئ٩یعنی رات کے ١٠ بج کر ٤٣منٹ٤٠ سیکنڈ پر مغرب ختم ہوگیا اور ایك بج کر ١٦ منٹ٢٠ سیکنڈ پرصبح شروع ہُوئی تو ١/٢-٢ گھنٹے سے زیادہ وقت عشا رہا اور جب اس رات میں جس کا غایۃ الانحطاط یعنی نہایت قلت میں ہے اتنا طویل وقت ملا تو گرمی کی اور راتوں میں کہ انحطاط اس سے بھی زائد ہے اور بھی زیادہ وقت ہاتھ آئے گا اور یہ متفق علیہ مسئلہ یقینا غلط ہوجائے گا، ہاں جب صبح وشفق کا انحطاط ١٨درجے لیجئے تو ٩ْ٤ ٣٠+٨ْ١=٨ْ٦ ٣٠َیا تمام العرض ٠ْ٤ ٣٠َغایت مفروضہ ٨ْ١=٢ْ٢ ٣٠ یعنی جس چیز کا میل شمالی ساڑھے بائیس درجے یا اس زائد ہوگا اُس میں ٹھیك آدھی رات کو انحطاط ١٨درجے یا اس سے بھی کم ہوگا جو ظہور بیاض کے لیے کافی ہے تو تمام رات میں ایك آن کو بھی اُفق مظلم ہوکر وقتِ عشاء نہ آئے گا اور اب یہ فقط راس السرطان ہی پر نہیں بلکہ ١٤ درجے جوزا سے ١٦ درجے سرطان تك یہی حال رہے گا جس کی مقدار ایك مہینہ تین دن بلکہ زائد ہوئی[1] ھکذاینبغی ا لتحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق اسی طرح مناسب تھی، توفیق کا اﷲ ہی مالك ہے۔ت)اس تمام بیان سے تین باتیں واضح ہوئیں جن سے جواب سوال روشن ومبین :

(١)اصلا مدار رؤیت ہے شارع علیہ الصّلٰوۃ والسلام نے اسباب میں کوئی ضابطہ وحساب ارشاد نہ فرمایا، نہ عقل صرف مقدار انحطاط صبح بتا سکتی تھی۔

(٢)ہاں رؤیت نے وُہ تجارب صحیحہ دئے جن سے قاعدہ کلیہ ہاتھ آیا اور بے دیکھے وقت بتانا ممکن ومیسر ہوا۔

(٣)ازانجاکہ یہاں جو قاعدہ ہوگا رؤیت ہی سے مستفاد ہوگا کہ شرع وعقل دونوں ساکت ہیں تو لاجرم


 

 



[1] یعنی دائرہ نصف النہار جانب سمت القدم ١٢ منہ



Total Pages: 836

Go To