Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

مکان مرتفع واختارہ ظہیرالدین[1]۔

کتاب الاقضیہ میں اس بات کی تصحیح ہے کہ ایك گواہ پر اکتفاء درست ہے جبکہ وہ بیرون شہر سےآیا ہو یا وُہ کسی جگہ بلند پر ہو، اور ظہیرالدین نے اسی کو مختار کہاہے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

واعتمدہ فی الفتاوی الصغری ایضا وھو قول الطحاوی واشارالیہ الامام محمد فی کتاب الاستحسان من الاصل قال فی النھایۃ اذاجاء من خارج المصر اوکان فی موضع مرتفع فانہ یقبل عندنا اھ فقولہ عندنا یدل علٰی انہ قول ائمتناالثلثۃ رضی اﷲتعالٰی عنھم وقد جزم بہ فی المحیط وعبر عن مقابلہ بقیل ففیہ التصریح بانہ ظاھرالروایۃ وھو کذلک، ویظھر لی ان لامنافاۃ بینھما لان روایۃ اشتراط الجمع العظیم محمولۃ علٰی مااذاکان الشاھد من المصرفی مکان غیر مرتفع فتکون الروایۃ الثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الروایۃ الاولٰی الخ اھ باختصار[2]۔

فتاوٰی صغریٰ میں بھی اسی پر اعتماد کیا ہے اور یہی امام طحاوی کا قول ہے، امام محمدکی اصل کتاب الاستحسان میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے، فرمایا: نہایہ میں ہے جب گواہ بیرونِ شہر سے آیا ہو وہ کسی بلند جگہ پر ہو تو ہمارے نزدیك اس کی گواہی مقبول ہوگی اھ نہایہ کا عندنا یہ واضح کررہا ہے کہ یہ تینوں ائمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہم کا قول ہے۔ محیط میں اس پر جزم ہے اور اس کے مقابل قول"قیل"سے ذکر کیا اور اس میں تصریح ہے کہ یہ ظاہرالروایت ہے، اور وُہ اسی طرح ہے، میرے نزدیك ان روایات میں کوئی منافات نہیں کیونکہ یہ روایت کہ جم عظیم کا ہونا ضروری ہے، یہ اس صورت پر محمول ہے جب گواہ شہری بلند جگہ والا نہ ہو، تواب دوسری روایت پہلی مطلق روایت کے لیے مقید بن جائے گی الخ اھ اختصارًا(ت)

یہاں تین٣ روایتیں ہیں اور تینوں مصححہ، اور تینوں ظاہرالروایۃ ہیں، اور فقیر نے اپنی تعلیقات حاشیہ شامی میں بیان کیا ہے کہ وُہ سب اپنے اپنے محامل پر مقبولہ معمولہ ہیں، اور فقہ میں بڑا کام یہی قول منقح کا ادراك ہے وباﷲ التوفیق۔

چہارم: جب رمضان دو٢عادلوں کی شہا دت سے ثابت ہُوا ہو اور ٣٠ روزوں کے بعد اکتیسویں شب


 

 



[1] درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١/١٤٨

[2] درمختار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢/١٠١



Total Pages: 836

Go To