Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

کہ آج رؤیت نہ ہو اور فورًا نقشہ لے کر پہنچوں کہ ٢٩کا مہینہ کب ہُوا، حالانکہ یہ اُن کی خام خیالی تھی، یہاں نقشوں میں تصریح کردی جاتی ہے کہ بر بنائے قواعد علم ہیئت ہے، شرع مطہر میں رؤیت پر مدار ہے، اگر رؤیت اس کے خلاف ہو نقشہ پر لحاظ نہ ہوگا، بالجملہ ایسے قواعد عقلیہ کیا قابلِ لحاظ ہوسکتے ہیں جن کے سبب ثقہ عادل کی شہادتِ شرعیہ رَد کی جائے۔

وبہ ظہر الجواب عما ذکرھھنا الامام السبکی الشافعی ان الشہادۃ ظنیۃ والحساب قطعی فانہ رحمہ اﷲتعالٰی ظن انہ کسائر حسابات الھیئۃ من الطلوع والغرب والتحویل والتقویم والخسوف ولیس کذلك بل ھو مثل حساب وقت الکسوف بدایۃ ونھایۃ بل ادون رتبۃ فانہ یتم بعد تکرار الاعمال الطوال مرۃ بعد اخری بخلاف ھذاومن جرب تجربتی عرف معرفتی لا جرم ردہ کل من جاء بعدہ من محققی الشافعیۃ ایضاو حققو اان العبرۃ بالشہادۃ الشرعیۃ وان خالفت تلك القواعد العقلیۃ کما فصلہ فی رد المحتار۔

اس سے امام سبکی شافعی کی گفتگو کا جواب بھی آگیا کہ شہادت ظنی ہے اور حساب قطعی،کیونکہ انہوں نے اسے باقی حسابات مثلًا طلوع، غروب، تحویل، تقویم اور خسوف کی حالت پر قیاس کیا ہے حالانکہ معاملہ ایسانہیں ہے بلکہ یہ تو ابتداء وانتھا کے اعتبار سے کسوف بلکہ رتبہ کے اعتبار سے اس سے بھی کم درجہ پر ہے کیونکہ یہ یکے بعدد یگرے تکرار عمل سے تام ہوجاتا ہے بخلاف مذکورہ کے، جوبھی مجھ جیسا تجربہ کرے گا اسے ہماری طرح ہی معرفت ہوگی، یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے محققین شوافع نے بھی ان کا رَد کیا ہے اور یہی ثابت کیا کہ اعتبار شہادت شرعیہ کاہے اگرچہ وُہ قواعد عقلیہ کے مخالف ہو، جیسا کہ اس کی تفصیل ردالمحتار میں ہے۔(ت)

سوم: رمضان مبارك میں بحال صفائی مطلع ایك ثقہ کی گواہی مطلقًا رَد کر دینا مذہب منقح کے خلاف ہے بلکہ وہ بتصریح محرر مذہب امام محمد رحمہ اﷲتعالیٰ اس حالت سے مقید ہے جبکہ اس اکیلے کا رؤیت سے تفرد خلاف ظاہرہو ورنہ اگر بیرون شہر سے آیا اور اہلِ شہر نے نہ دیکھا یا یہ بلندی پر تھا اور لوگ زمین پر، یا لوگوں نے تلاشِ ہلال میں کوشش نہ کی تو صفائے مطلع میں بھی ایك کی شہادت ظاہرالروایۃ مصححہ معتمدہ منقحہ پر مقبول ہے۔ درمختار میں ہے:

صحح فی الاقضیہ، الاکتفاء بواحد، ان جاء بخارج البلد اوکان علی

کتاب الاقضیہ میں اس بات کی تصحیح ہے کہ ایك گواہ پر اکتفاء درست ہے جبکہ وہ بیرون شہر سے

 


 

 



Total Pages: 836

Go To