Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ان مولوی صاحب کے نقشے میں کتنا فرق ہے، شاہجہان پور، بریلی، بدایوں، پیلی بھیت، دہلی، رامپور، لکھنؤ، مرادآباد کے وقت یہاں اور شاہجہان پور والے دونوں نقشوں میں دئے ہیں ان میں ہرشہر کے لیے سحری کے اوقات میں بیس بائیس منٹ تك کا فرق ہے اور دہلی کے لیے تو ٢٨ منٹ تك ہے کہ دو منٹ کم آدھا گھٹتا ہوا مگر پیلی بھیت کے لیے اﷲاعلم کس وجہ سے اس قدر ترقی واقع ہُوئی کہ ابتداء میں وقت ٹھیك آیا اور آخر ماہ میں بڑھتے بڑھتے احتیاطی منٹ کا بھی اصلًا نشان نہ رہا کنارے ہی پر آلگا بلکہ تدقیق کی جائے تو عجب نہیں کہ کچھ حصہ صبح کا آجائے۔ بات یہ ہے کہ مولوی صاحب نے شاہجہان پور کے وقت بطورِ خود تجویز کرکے باقی شہروں کے لیے صرف اُن کا تفاوت طول جو اُن کے خیال میں تھا گھٹا بڑھا لیا حالانکہ تبدلِ اوقات میں بڑا حصہ تفاوت عرض کا ہے دوشہروں میں تفاوت طول اصلًا نہ ہو صرف اختلاف عرض سے طلوع وغروب و صبح و عشامیں گھنٹوں کا فرق پڑجاتا ہے شاہجہان پورو پیلی بھیت میں اکیس منٹ کاتفاوت کسی طرح نہیں بنتا، یہی حال کلکتے کا ہے کہ اخیر کی تاریخوں میں کچھ ہی خفیف نام احتیاط کا رہ گیا ہے دو٢ سال ہوئے کہ خاص کلکتے کے اوقات یہاں سے شائع ہوئے تھے ٢١نومبر سے ٢٨ تك تاریخیں اس سال بھی پڑی ہیں ان سے ملا کر دیکھ سکتے ہیں پرچہ مرسل ہے افطار کے اوقات میں اتنا زیادہ تفاوت نہیں مگر اس کا تھوڑا بھی بہت ہے، مثلًا شاہجہا ن پور میں احتیاطی منٹ گھٹتے گھٹتے آخر میں صرف ایك ہی رہ گیا مگر دہلی پر آفت پوری ہے اول سے آخر تك غروب سے پہلے افطار لکھاخصوصًا آخر میں تو پانچ منٹ پیش از غروب افطار ہوئی ہے، شاہجہان پور میں جس نے ٤  بج کر ٤٠ منٹ تك سحری کھائی اس کا روزہ یقینا صحیح ہوا، وہ عورت توڑنے سے سخت گنہ گار ہوئی اس کا روزہ نہ ہونے کا حکم محض غلط تھا۔ ابوداؤد ، دارمی ابوھریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ[1]۔

جس نے بے علم فتوٰی دیا اس کا وبال فتوٰی دینے والے پر ہے۔ (ت)

اگر گھڑی صحیح تھی تو یقینا پاؤ گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔ مسلمانو! یہ دین ہے، جس پر خدا کی دین ہے وُہ جانتا ہے کہ اس کا سیکھنا مجھ پر دَین ہے قواعد و براہین ہیأت و ہندسہ بالائے طاق سہی، وقت پہچاننا تو ہر مسلمان پر فرض عین ہے، افسوس کہ ہزاروں آدمی حتی کہ بہت ذی علم بھی صبح صادق و کاذب کی ٹھیك تمیز دیکھ کر نہیں بتاسکتے اور اس پر کتب ہیئت وغیرہ کی پریشان بیانوں نے انہیں اور دھو کے میں ڈالا ہے، سچ


 

 



[1] سنن ابی داؤد باب التوقی فی الفتیا ای الفتوی آفتاب عالم پریس لاہور ٢/١٥٩



Total Pages: 836

Go To