Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

کان النبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲعلٰی کل احیانہ[1]۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ۔

رسو ل اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم اپنے جمیع اوقات میں ذکرِ الٰہی فرماتے تھے(اسے مسلم ، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ت)

جنب کو بہ نیتِ دُعا وثنا الحمد وآیۃ الکرسی پڑھنے کی اجازت ہے والمسئلۃ مشہورۃ وفی الکتب مزبورۃ(یہ مسئلہ نہایت مشہور ہے اور کتب میں مسطور ہے۔ت) واﷲتعالیٰ اعلم۔

مسئلہ ٢٥٧:            ٢٦رجب ١٣١٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کا روزہ نفل رکھنا کیسا ہے۔ ایك شخص نے جمعہ کا روزہ رکھا دوسرے نے اُس سے کہا جمعہ عید المومنین ہے روزہ رکھنا اس دن میں مکروہ ہے اور باصرار بعد دوپہر کے روزہ تُڑوادیا اور کتاب سرالقلوب میں مکروہ ہونا لکھا ہے دکھلادیا ایسی صورت میں روزہ توڑنے والے کے ذمّے کفارہ ہے یا نہیں ؟ اور تُڑوانے والے کوکوئی الزام ہے یانہیں؟ بینوا  توجروا

الجواب :

جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بالتخصیص چاہئے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہُوا، اور اگر خاص بہ نیتِ تخصیص نہ تھی تو اصلًا کراہت بھی نہیں، اُس دوسرے شخص کو اگر نیتِ مکروہہ پر اطلاع نہ تھی جب تواعتراض ہی سرے سے حماقت ہوا، اور روزہ توڑ دینا شرع پر سخت جرأت ،اور اگر اطلاع بھی ہوئی جب بھی مسئلہ بتا دینا کافی نہ تھا نہ کہ روزہ تڑوانا، اور وُہ بھی بعد دوپہر کے، جس کا اختیار نفل روزے میں والدین کے سوا کسی کو نہیں، توڑنے والا اور تڑوانے والا دونوں گنہ گار ہوئے، توڑنے والے پر قضا لازم ہے کفارہ اصلًا نہیں ۔واﷲتعالٰی اعلم

_______________


 

 



[1] سُنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٢٦



Total Pages: 836

Go To