Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

الصلٰوۃ الخامسۃ اھ[1]  وفی البحر قال ابوبکر الاسکاف یجوز ذٰلك کلہ وقال ابوالقاسم وھو اختیار الفقیہ ابی اللیث یجوز عن اربع صلوات دون الخامسۃ لانہ متفرق ولایجوز ان یعطی کل مسکین اقل من نصف صاع فی کفارۃ الیمین فکذٰلك ھذا فالحاصل ان کفارۃ الصلٰوۃ تفارق کفارۃ الیمین فی حق انہ لا یشترط فیھا العدد وتوافقھا من حیث انہ لوادی اقل من نصف صاع الٰی فقیر واحد لایجوز اھ[2]۔ وفی ظھار التنویر جاز لواطعم واحد استین یوما اھ٣ [3] قلت فاذا جاز ھذا فیما یشترط فیہ التعدد فما لا یشترط فیہ اولٰی بالجواز۔

کانہیں اھ۔ بحر میں ہے کہ شیخ ابوبکر اسکاف نے کہا کہ وُہ تمام نمازوں کا فدیہ ہوگا، ابوالقاسم کہتے ہیں اور یہی فقیہ ابواللیث کا مختار ہے کہ یہ چار نمازوں کا فدیہ ہوگا پانچویں کا نہیں کیونکہ اس سے تفریق ہوگئی، اورکفارہ قسم میں ہر مسکین کو نصف صاع سے کم نہیں دیا جاسکتا،یہاں بھی حکم اسی طرح ہے، تو حاصل یہ ہوا کہ نماز کا کفارہ اس لحاظ سے کفارہ قسم سے الگ ہے کہ اس میں تعداد شرط نہیں، اور اس لحاظ سے موافق ہے کہ اگر ایك فقیر کو نصف صاع سے کم دیاجائے تو جائز نہیں ا ھ  تنویر کے مسئلہ ظہار میں ہے کہ اگر ایك ہی فقیر کو ساٹھ دن کھانا کھلایا تو یہ جائز ہوگا اھ قلت جب یہ وہاں جائز یہاں تعدد شرط ہے تووہاں بطریق اولٰی جائز ہونا چاہئے جہاں تعدد شرط نہیں ہے۔(ت)

(٦)مصرف اس کا مثل مصرفِ صدقہ فطر و کفارہ یمین وسائر کفارات و صدقات واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلًا شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کونہیں دے سکتے کافر کونہیں دے سکتے، جو صاحبِ فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی ، پوتا پوتی، نواسا نواسی، یا صاحبِ فدیہ جس کی اولاد میں جیسے ماں باپ ، دادا دادی، نانانانی ، انہیں نہیں دے سکتے ، اور اقربا مثلًا بہن بھائی ، چچا ، ماموں خالہ ، پھوپھی، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا ، بھانجی، ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں، یونہی نوکروں کو جبکہ اجرت میں محسوب نہ کریں۔

فی ردالمحتار مصرف الزکوٰۃ ھو مصرف

ردالمحتار میں ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے صدقۃ الفطر،

 


 

 



[1] الفتاوی الہندیۃ باب قضاء الفوائت نورانی کتب خانہ پشاور ١/١٢٥

[2] البحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢/٩١

[3] تنویرالابصار متن درمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ١/٢٥١



Total Pages: 836

Go To