Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ہندیہ میں ہے:

انما تجب من اربعۃ اشیاء من الحنطۃ والشعیر والتمر والزبیب وما سواہ من الحبوب لایجوز الا بالقیمۃ اھ[1] ملتقطا۔

یہ صرف ان چار چیزوں میں لازم ہے گندم، جَو، کھجور، اور منقہ۔ اور جوان کے سوا غلہ جات ہیں ان میں فقط قیمت کا ہی اعتبار ہوگا اھ ملتقطا(ت)

لباب میں ہے:

ھذہ اربعۃ انواع لاخامس لھا واما غیرھا من انواع الحبوب فلا یجوز الا باعتبار القیمۃ کالارزوالذرۃ والماشی والعدس والحمص وغیر ذٰلک[2]۔

ان کی چار ہی اقسام ہیں پانچویں کوئی نہیں، لہذا ان کے علاوہ غلّہ جات میں قیمت ہی کا اعتبار ہوگا مثلًا چاول، باجرہ، ماش، مسور اور چنے وغیرہ(ت)

(٤و٥) فدیہ نماز و روزہ میں سوال پنجم کی چاروں صورتیں تو بلا شبہ جائز ہیں اور سوال چہارم کی بھی سب صورتیں روا، مگر جس میں فقیر کو نصف صاع سے کم دینا ہو اس میں قول راجح عدم جواز ہے، سراجیہ ، ودرمختار و ہندیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا اور یہی مختار امام ابواللیث ہے۔

فی السراجیۃ لایجوزان یؤدی عن صلٰوۃ لفقیرین اھ [3] وفی الدرلوادی للفقیر اقل من نصف صاع لم یجز ولو اعطاہ الکل جاز[4]اھ وفی الھندیۃ عن التتارخانیۃ عن الوالجیۃ لودفع عن خمس صلوات تسع امنان لفقیر واحد ومنا لفقیر واحد اختار الفقیہ انہ یجوز عن اربع صلوات ولا یجوز عن

سراجیہ میں ہے کہ ایك نماز کا فدیہ دو فقراء کودینا جائز نہیں اھ اور در میں ہے اگر کسی فقیر کو نصف صاع سے کم دیا تو جائز نہ ہوگا، ہاں اگر اسے تمام دے دیا تو جائز ہے اھ اور ھندیہ میں تاتار خانیہ سے وہاں ولوالجیہ سے ہے کہ اگر کسی نے پانچ نمازوں کا فدیہ نو مدایك فقیر کو دیا اور ایك مد ایك فقیرکو ،تو فقیہ ابواللیث کہتےہیں کہ وہ فدیہ چار نمازوں کا ادا ہوجائے گا پانچویں

 


 

 



[1] الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ١/١٩١

[2] الباب المناسك مع ارشادالساری فصل فی احکام الصدقہ دارالکتاب العربی بیروت ص٦٤

[3] فتاوٰی سراجیہ باب قضاء الفوائت نولکشورلکھنؤ ص١٧

[4] درمختار ،باب قضاء الفوائت مجتبائی دہلی،١/١٠١



Total Pages: 836

Go To