Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

(١٠) شیخ فانی اور موتٰی کے فدیہ کے احکام میں کوئی فرق ہے یا دونوں کا ایك حکم ہے، اور اگر فرق ہے تو وہ کونسا فرق ہے؟

(١١) اگر اپنی زندگی میں ہی روزہ قضا شدہ کا فدیہ کوئی شخص دے دے حالانکہ وہ شیخ فانی نہیں ہے تو وہ روزہ اس سے ساقط ہوگا یا نہیں؟

(١٢)اگر زید نے انتقال کیا اور اس کے ذمّہ روزہ فرض باقی رہ گیا ہے تواس کے وارث یا اقربا اُس روزہ کے بدلے میں روزہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟بینوا  توجروا

الجواب:

(١) وزن بلاد میں مختلف ہوتے ہیں لہذا ہم تولوں اور انگریزی روپوں کا حساب بتاتے ہیں کہ ہر شخص اپنے یہاں کے وزن رائج کو بآ سانی اس سے تطبیق د ے سکے، ایك روزہ یا ایك نماز کا فدیہ یا کفارہ میں ایك مسکین کی خوراك یا ایك شخص کا صدقہ فطر یہ سب گیہوں سے نیم صاع اور جَو سے ایك صاع ہے۔ صاع دوسوستر ٢٧٠تولے ہے ،نیم صاع ایك سو پینتیس ١٣٥ تولے۔ تولہ بارہ١٢ ماشہ، ماشہ آٹھ٨ رتی، رتی آٹھ چاول۔انگریزی روپیہ سکّہ رائجہ سوگیارہ ماشے ہے۔ردالمحتار میں ہے:

اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد بالاستار اربعون والاستار بکسرالھمزۃ بالمثاقیل اربعۃ ونصف کذافی شرح دررالبحار اھ ١[1] ملخصا ً۔

معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار مُد اور مُد چالیس استار اور استار (ہمزہ پر کسرہ کے ساتھ) ساڑھے چار مثقال ہے، جیسا کہ شرح دررالبحار میں ہے اھ ملخصًا(ت)

صاع چار مُد ہے اور ہر مُد چالیس استار اور ہر استار ساڑھے چار مثقال، تو ہر مُدایك سواسی ١٨٠ مثقال ہُوا اور مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے ولہذا درہم شرعی کہ مثقال کا ٧/١٠سات عشر ہے۔

فی الدرالمختار کل عشرۃ دراھم وزن سبعۃ مثاقیل[2]۔

درمختار میں ہے ہر دس درہم بوزن سات مثقال کے ہے ۔ (ت)

پچیس رتی اور پانچواں حصّہ رتی کا ہُوا یعنی ٣ ماشہ ١-١/۵سرخ۔ جواہرالاخلاطی میں ہے :

الدرھم الشرعی وعشرون حبّۃ و خمس حبّۃ[3]۔

درہم شرعی پچیس رتّیاں اور رتی کا پانچواں حصّہ ہے(ت)

 

 



[1] ردالمحتار باب صدقۃ الفطر مصطفی البابی مصر ٢/٨٣

[2] الدرالمختار باب زکوٰۃ المال مجتبائی دہلی ١/١٣٤

[3] الجواہرالاخلاطی (قلمی نسخہ) کتاب الزکوٰۃ ص٢٢



Total Pages: 836

Go To