Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

 

 

 

باب الفدیۃ

مسئلہ٢٣٥:            مسئولہ قاضی عبدالحمید صاحب پیش امام از قصبہ ککڑی                  ٢٨محرم١٣٣٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام اگر عذر سے روزہ نہیں رکھتا ہے پر اعادہ روزہ کا یقینی ایک مسکین کو ہمیشہ کھانا کھلادیتا ہے مگر نمازِ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں ؟ اور تراویح کے پڑھانے میں حرج تو نہیں ہے؟ جواب دو

الجواب:

بعض جاہلوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو، ایسا ہر گز نہیں، فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو، نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضُعف بڑھے گا اُس کے لیے فدیہ کا حکم ہے، اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کوروزہ مضر ہو، اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگر چہ تکلیف ہو۔ بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازم روزہ ہے اور اسی حکمت کے لیے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے، اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتو معاذاﷲ روزے کا حکم ہی بیکارومعطل ہوجائے، امام مذکور اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصولِ صحت اُسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اُس کے بدلے اگر مسکین کو کھا ناد ے تو مستحب ہے ثواب ہے جبکہ اُسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہُوئے ہیں ادا کرے گا۔ اس صورت میں وہ امامت کرسکتا ہے اور اگر ویسا مریض نہیں اور کم ہمتی کے سبب روزے قضا کرتا ہے تو سخت فاسق ہے اور اسے امام بنانا گناہ، اور اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی۔واﷲتعالیٰ اعلم

_____________________


 

 



Total Pages: 836

Go To