Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

مسئلہ ٢٣٣:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑوادیں ان کےلیے کیا حکم ہے؟ اور جو صاحب روزہ توڑیں وہ کیا کریں اور اُن کے لیے کیاحکم ہے؟ دوسرے کسی صاحب کے بار ڈالنے سے روزہ توڑا جائے تو ہر دو صاحبان کے لئے کیا حکم ہوگا؟

الجواب:

بلا ضرورت و مجبوری شرعی فرۤض روزہ زبردستی تڑوانے والا شیطانِ مجسم و مستحقِ نارِ جہنم ہے اور بغیر سچی مجبوری کے فقط کسی کے بار ڈالنے یا زیر کرنے سے فرض روزہ توڑ دینے والے پر عذاب ہے، اور روزہ ادائے رمضان تھاتو حسبِ شرائط اس پر کفارہ واجب جس میں ساٹھ روزے لگاتار رکھنے ہوتے ہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ٢٣٤:                           ازلاہور مسئولہ گلاب خلیفہ                         ١١صفر المظفر ١٣٣٤ھ

بخدمت شریف جناب عالی خاندان دام اقبالکم بعدادائے آداب کے عرض کمترین کی یہ ہے کہ جو شخص اس ماہِ رمضان میں روزہ نہ رکھے اور بعدمیں پورا روزہ رکھے جس طرح حکمِ رسول ہو تحریر فرمائیں کیونکہ اس ماہ میں طاقت نہیں ہے رکھنے کی، کمزوری ناطاقتی بدن میں ہے۔ جناب کو اس وجہ پر تکلیف دیتا ہُوں صاف تحریر فرمائیں، اور ایك شخص روزہ نہیں رکھتاہے اپنے عوض ایك عورت کو روزہ رکھاتا ہے، آپ فرمائیں مرد کا مرد کو لازم ہے یا عورت کا عورت کو؟ غیر عورت ہے جس کو روزہ رکھاتاہے۔فقط

الجواب:

جو ایسا مریض ہے کہ روزہ نہیں رکھ سکتا روزہ سے اُسے ضرر ہوگا، مرض بڑھے گا یا دن کھینچیں گے، اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہوتو جتنے دنوں یہ حالت رہے اگر چہ پُورا مہینہ وہ روزہ ناغہ کرسکتا ہے اور بعد صحت اس کی قضا رکھے، جتنے روزے چُھوٹے ہوں ایك سے تیس تک۔ اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل وبے معنی ہے، بدنی عبادت ایك کے کئے دوسرے پر سے نہیں اُتر سکتی، نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔واﷲ تعالٰی اعلم 

___________________


 

 



Total Pages: 836

Go To