Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

شدید اولسعۃ حیّۃ[1]۔

سخت بھوك کی وجہ سے یا سانپ کے کاٹنے سے ہو(ان صورتوں میں روزے کا ترك جائز ہے)(ت)

شامی میں ہے:

فلہ شرب دواء ینفعہ[2]۔

روزہ دار کے لیے ایسی دوا کا پینا جائز ہے جو اسے نفع دے۔ (ت)

مسئلہ۲۳۰:             از بہرائچ چوك بازار مرسلہ حافظ محمد شفیع صاحب         ۲۶ماہ مبارك ۱۳۳۳ھ

اگر رمضان شریف کاچاند مکہ معظمہ یا ہندوستان سے دُور دراز ملکوں میں۲۹ شعبان کو ہُوا اور مثلًا بہرائچ میں اُس تاریخ کو چاند نہیں نظر آیا بلکہ ۳۰ شعبان کو چاند ہُوا کیا اس صورت میں بہرائچ کے باشندوں کو ایك روزہ کی قضا علم و واقفیت قطعی ہونے پر لازم آتی ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے صورت مذکورہ میں قضا ایك روزہ کی لازم نہیں اس لیے کہ جب قریب ملك میں چاند نظر آئے تو اُس کا اعتبار ہے دُور ملك کا اس بارے میں اعتبار نہیں، عمر و کا قول اُس کے برخلاف ہے یعنی وُہ قضا لازم ہونے کا التزام کرتا ہے۔بینوا توجروا

الجواب :

عمرو کاقول صحیح ہے، ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح و معتمد یہی ہے کہ دربارہ ہلالِ رمضان و عید اختلا ف مطالع کا کچھ اعتبار نہیں، اگر مشرق میں رؤیت ہو مغرب پر حجت ہے، اور مغرب میں تو مشرق پر، مگر ثبوت بروجہ شرعی چاہئے، خط یا تار یا تحریرِ اخبار یا افواہ بازاریا حکایتِ امصار محض بے اعتبار۔کما فصلناہ فی فتاوٰنا بما لا مزید علیہ (جیسا کہ اس کی ایسی تفصیل اپنے فتاوٰی میں تحریر کی ہے جس پر اضافہ دشوار ہے۔ت)درمختار میں ہے:

اختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولٰئك بطریق موجب[3] (ملخصا) واﷲ تعالٰی اعلم۔

مذہب صحیح کے مطابق مطالع کے اختلاف کا اعتبار نہیں، اس پر اکثر مشائخ ہیں اور فتوٰی اسی قول پر ہے، لہذااہلِ مشرق پر اہلِ مغرب کی رؤیت کی بنا پر روزہ رکھنا لازم ہوگا بشرطیکہ ان کے ہاں ثبوت چاند موجب شرعی سے ثابت ہو۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)

 


 

 



[1] درمختار ،فصل فی العوارض،مجتبائی دہلی ،۱/۱۵۲

[2] ردالمحتار     فصل فی العوارض        مصطفی البابی مصر    ۲/۱۲۶

[3] درمختار     کتاب الصوم     مجتبائی دہلی۱/۱۴۹



Total Pages: 836

Go To