Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

یعنی سحری کھا کر حقّہ پی رہے تھے کہ یکایك اذان ہوگئی فورًا کُلی کرکے اور کاموں میں مصروف ہوگئے، صبح کو ایك بزرگ سے سب حال کہا گیا انہوں نے اس قسم كے کلمات کہے جس سے ابطالِ صیام معلوم ہوا نہایت تشویش ہُوئی، جب ہم لوگوں نے جان لیا کہ روزہ یقینانہیں ہے تب ہم چند آدمیوں نے دن کو یعنی ۱۲ بجے اسی ماہ کھالیا اور یہ امر تخمینًا دس آدمیوں سے واقع ہُواا عنی روزہ کھول لینا، بعد کو اور لوگوں سے ذکر ہُوا تو اُن لوگوں نے تنبیہ کی اور کہا کہ کھانا کھانا مناسب نہ تھا استطاعتِ کفارہ نہیں حتی کہ دوماہ متواتر روزے رکھنے کی بھی بظاہر قدرت نہیں، اب جیسی رائے ہو مطلع فرمایا جائے۔ بینواتوجروا

الجواب:

آج کل کہ آفتاب اوائل بُرج حمل میں ہے۔ بریلی بلگرام کے قریب قریب عرض کے شہروں میں سحری چار بجے تك کھانی چاہئے، ساڑھے چار بجے کب کی صبح ہوچکتی ہے، اس وقت کچھ کھانے پینے کے معنی ہی نہ تھے، وہ روزہ یقینانہ ہوا اُس کی قضا فرض ہے مگر غیر مریض و مسافر کو روزہ جاتے رہنے کی بھی حالت میں بوجہ ادب وحُرمت ماہ مبارك دن بھر مثل روزہ رہنا واجب تھا، دن کو پھر جو قصدًا کھا یا حرام تھا گناہ ہُوا، توبہ کی جائے، مگر روزہ تو تھا ہی نہیں جسے اس کھانے نے توڑا ہو،لہذا کفارے سے کچھ علاقہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ۲۲۹:             ازخورجہ ضلع بلندشہر

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رمضان شریف میں روزہ سے تھے اخیر رمضان المبارك میں جبکہ وُہ روزہ سے تھے ان کے دردصدر میں ہو اور دست آئے اور استفراغ کئی بار ہُوا، درد کی بہت سخت تکلیف تھی، بالآخر ۴ بجے بخوف ترقی مرض بعد ظہر ڈاکٹری دوا حالتِ صوم میں پلادی گئی، روزہ تڑوادیا گیا، ایسی حالت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ روزہ توڑنے کی وجہ سے آیا ساٹھ روز ے رکھے جائیں یا ساٹھ مسکین کھلائے جائیں یا کچھ نہ کیا جائے؟ درد سے آرام ہونے کے بعد جو آٹھ سات روزے باقی تھے وہ بوجہ ضعف وناطاقتی کے نہیں رکھے گئے تا عید الفطر۔ ایسی صورت میں شارع کا کیا حکم ہے؟بینو اتوجروا

الجواب:

اس صورت میں نہ ساٹھ روزے ہیں نہ ساٹھ مسکین غرض کفارہ نہیں صرف اُس روزہ کی جو توڑا اور ان روزوں کی جونہ رکھے قضا ہے ہرروزہ کے بدلے ایك روزہ وبس۔

فی الدرالمختار من مبیحات الفطر خوف ھلاك اونقصان عقل ولو بعطش اوجوع

درمختار میں عوارض مبیحہ سے ہے یعنی روزہ نہ رکھنے کو مباح کرنے والی چیزوں میں سے یہ ہیں ہلاکت کا خوف یا نقصانِ عقل کا خوف، یہ خوف خواہ پیاس سے ہو

 


 

 



Total Pages: 836

Go To