Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

فضامیں بھری اور متحرك رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناك کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں اور بعض وُہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادرًا بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں، جیسے طعام و شراب ، اور انہیں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں، شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور  تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹہہرے،اسی قسم ثا نی کو مطلقا شمار مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظرِ ضرورت حکمِ افطار ساقط فرمایا مثلًا کتبِ فقہیہ پر نظر ڈالے،

اوّلًا: بیمار قریبِ مرگ ہو گیا مجبورًا دواپی ضرورت کیسی شدید تھی جس نے روزہ توڑنا جائز کردیا مگر روزہ ٹوٹنے کا حکم مرتفع نہ ہُوا۔

ثانیًا:تلوار  سرپر لئے کھڑا ہے کہ نہیں کھاتا تو قتل کردے گا کیسی سخت ضرورت ہے حکم ہوگا کھالے مگر یہ نہ ہوگا کہ روزہ نہ جائے۔

ثالثًا:مخمصہ والے مضطر کی ضرورت سے زیادہ کس کی ضرورت ہے، جس کے لئے مردار سے مردار حرام سے حرام میں اثم زائل، اور بقدر حفظ رمق، تناول فرض ہُوا مگر یہ نہیں کہ یہ حالت بصورت صوم واقع ہوتو ضرورت کے لحاظ سے روزہ نہ ٹوٹے۔

رابعًا: سوتا مرابرابر ہوتا ہے النوم اخوالموت (نیند موت کی بہن ہے۔ت) سوتے کے پاس بچنے کا کیا حیلہ، احتراز کا کیا چارہ، مگر یہ ناممکن الاحترازی، بقائے صوم کا حکم نہ لائی، سوتے میں حلق میں کچھ چلاجائے تو روزے پر وہی فساد کاحکم آئے گا، غرض خادم فقہ کے نزدیك بدیہیات سے ہے کہ شرع مطہر کبھی کسی چیز کو مفطر مان کر ضرورت وعدمِ ضرورت کا فرق نہیں فرماتی، لحاظِ ضرورت صرف اس قدر ہوتا ہے کہ افطار جائز بلکہ کبھی فرض ہوجائے مگر مفطر مفطر نہ رہے یہ ناممکن، تو ثابت ہُوا کہ اس اصل اجماعی عقل و نقل وقاعدہ شرعیہ آیہ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ[1] (اﷲتعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کلّف نہیں ٹھہراتا۔ت) نے واجب کیا کہ قسم ثانی بھی راسًا عداد مفطرات سے مہجور اور مفطر شرعی صرف قسم ثالث میں محصور ہو۔ بحمد ﷲتعالٰی اس تقریر منیر سے روشن ہُوا کہ مفطر  نہ ہونے کے لئے جس طرح قسم سوم کی ضرورت نادرہ

 



[1] القرآن۲ /۲۸۶



Total Pages: 836

Go To