Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

وان لم یکن مزورافی نفس الامر کما ھو ظاھر۔[1]

نفس الامر میں اس میں جعلسازی نہ کی گئی ہو جیسا کہ ظاہر ہے۔(ت)

دیکھئے کس قدر روشن وواضح تصریحیں ہیں کہ خط پر اعتماد نہیں، نہ اس پر عمل نہ اس کے ذریعہ سے یقین حاصل ہو، نہ اس کی بنا پر حکم و گواہی حلال کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مُہر مُہر کے مانند ہوسکتی ہے، اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ خط کا صرف اپنی ذات میں قابلِ تزویر ہونا ہی اس کی بے اعتباری کو کافی ہے اگر چہ یہ خاص خط واقع میں ٹھیك ہو، پھر یہ تار جس میں خبر بھیجنے والے کے دست و زبان کی کوئی علامت تك نام کو بھی نہیں اور اس میں خط کی بہ نسبت کذب و تزویر نہایت آسان کیونکر امورِ دینیہ کی بنا اُس پر حرام قطعی نہ ہوگی۔ سبحان اﷲائمہ دین کی وُہ احتیاط کہ مُہر خط کو صرف گنجائش تزویر کے سبب لغو ٹھہرایا حالانکہ مُہر بنالینا اورخط میں خط ملادینا سہل نہیں شاید ہزار میں دوایك ایسا کرسکتے ہوں اوریہاں تو اصلًا دشواری نہیں جو چاہے تار گھر میں جائے اور جس کے نام سے چاہے تاردے آئے، وہاں نام ونسب کی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی ، نہ رجسٹری کی طرح شناخت کے گواہ لیے جاتے ہیں، علاوہ بریں تار والوں کے وجوبِ صدق پر کون سی وحی نازل ہے کہ اُن کی بات خواہی نخواہی واجب القبول ہوگی اور اس پر احکام شرعیہ کی بنا ہونے لگی ہزار افسوس ذلّتِ علم وقلّتِ علماء پر،انّا ﷲوانّاا لیہ راجعون۔

تنبیہ سوم: قطع نظر اس سے کہ خبر شہادت منگانے کے لیے جنہیں مراسلات بھیجے جائیں گے غالبًا ان کا بیان حکایت و اخبار محض سے کتنا جُدا ہوگا جس کی بے اعتباری تمام کتبِ مذہب میں مصرح۔ بالفرض اگر اصل خبر میں کوئی خلل شرعی نہ ہو تا ہم اس کا جامہ اعتبار تار میں آکر یکسر تار تار کہ وُہ بیان ہم تك اصالتًانہ پہنچا بلکہ نقل در نقل ہو کرآیا، صاحبِ خبر تو وہاں کے تار والے سے کہہ کر الگ ہوگیا اُس نے تار کو جنبش دی اور اس کے کھٹکوں سے جن کے اطوارِ مختلفہ کو اپنی اصطلاحوں میں علامتِ حروف قرار دے رکھا ہے اشاروں میں عبارت بتائی اب وہ بھی جُدا ہوگیا یہاں کے تار والے نے اُن کھٹکوں پر نظر کی، اور ضرباتِ معلومہ سے جو فہمم میں آیا نقوش معرفہ میں لایا اب یہ بھی الگ رہا وہ کاغذ کا پرچہ کسی ہر کارے کے سپرد ہُوا کہ یہاں پہنچا کر چلتا بنا۔ سبحان اﷲ! اس نفیس روایت کا سلسلہ سند تو دیکھئے مجہول عن مجہول عن مجہول، نامقبول از نامقبول از نامقبول، اس قدر وسائط تولابدی ہیں پھر شاید کبھی نہ ہوتا ہو کہ معزز لوگ بذاتِ خودجاکرتار دیں، اب جس کے ہاتھ کہلابھیجا مانیے وُہ جدا واسطہ ، اس پر فارم کی حاجت ہُوئی تو تحریر کا قدم درمیان، آپ نہ آئے تو کسی انگریزی دان کی وساطت ، اُدھر تار کا بابُو اردو نہ لکھے تو یہاں مترجم کی جُدا ضرورت، اینہمہ فصل زائد ہُوا اور تار وصل نہیں، جب تو نقل در نقل کی گنتی ہی کیا ہے، وائے بے انصافی


 

 



[1] غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١/٣٣٩



Total Pages: 836

Go To