Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

تمام قرآن در تراویح مخواں ومشنو ہمیں بست رکعت بہ نہجیکہ قادر باشی بجا آورد روزہ از دست دادہ مستحق نار جحیم و عذاب الیم مباش اے برادر! روزہ فرضِ عین ست و فرض عین بر فرضِ کفایہ مقدم وختمِ قرآن در تراویح سنّتِ کفایہ است وسنت کفایہ از سنت عین مؤخرایں چہ ستم بے خردی باشك کہ سنتِ کتایہ بر فرضِ عین مقدم دارند، من العلماء من وسع فی ترك الختم لکسل القوم قائلاان من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل [1]کما فی الدرمختار عن الزاھدی عن الو بری والکرمانی وفیہ عن الاختیار الافضل فی زماننا قدر مالا یثقل علیہم قال اقرہ الصنف یعنی الغزی وغیرہ وعن المجتبیٰ عن الامام لوقرأ ثلاثا قصارا او اٰیۃ طویلۃ فی الفرض فقد احسن ولم یسیئ قال الزاھدی فما ظنك بالتراویح٢[2]قلت فانظر الیٰ جھل ھذاالذی یترك صوم رمضان لشئی یرخص فی ترکہ لمثل ھذا روزے امیر المنومنین

تو تمام قرآن تراویح میں نہ پڑھے اور نہ سُنے، جس طریقہ سے بیس تراویح ادا کرنے پر قادر ہے ادا کرے، روزہ اگر نہ تکھا تو نارِ جہنّم اور عذاب الیم کا مستحق ٹھہرے گا،اے میرے بھائی! روزہ فرض عین ہے اور فرضِ عین فرضِ کفایہ پر مقدم ہوتا ہے، اور ختمِ قرآن تراویح میں سنتِ کفایہ ہے اور سنت کفایہ سنتِ عین سے مؤخر ہوتی ہے ، یہ کیا ظلم ہے کہ سنتِ کفایہ کو فرض عین پر مقدم کردیا گیا ہے، بعض علماء نے قوم میں سُستی و کاہلی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ختمِ قرآن کو ترك کردینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے روا رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وُہ جاہل ہے جیسا کہ درمختار میں زاہدی سے اور وہاں وبری اور کرمانی کے حوالے سے ہے اور اسی میں الاختیارسے ہے کہ ہمارے زمانے میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ نبے، اور کہا کہ اسے ہی مصنّف الغزی وغیرہ نے ثابت رکھا ہے، المجتبےٰ میں امام صاحب سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرائض میں تین آیات چھوٹی یا بڑی پڑھیں تو اس نے بہت اچھا کیا اور وہ گنہگار نہیں۔ زاہدی کہتے ہیں کہ پھر تراویح کے معاملہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟میں کہتاہُوں اس جاہل کو دیکھو جو رمضان کا روزہ ایسے عمل کی خاطر ترك کر رہاہے جس کا ترك روزے کی خاطر کیا جاسکتا تھا۔ ایك دن امیرالمومنین  حضرت

 


 

 



[1] درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی،١/٩٩

[2] درمختار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ١/٩۸



Total Pages: 836

Go To