Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ای بسا قرآن خواناں کہ قرآن ایشاں را لعنت مے کند، علماء مطلق فرمودہ اند ہر عملے کہ ضعیف واز روزہ بازدارد، روانیست فی الدرالمختار لا یجوزان ان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف[1]واگر مردے راحالتے باشد کہ چوں روزہ داردقیام درنماز نہ تواند اُو را روانیست کہ روزہ رمضان ترك دہد بلکہ روزہ دارد ونماز نشستہ گزارد فی الدرالمختار عن البز ازیۃ لو صام عجز عن القیام صام وصلی قاعد اجمعا بین العبادتین[2] سبحان اﷲ! نزد علماء قیام نماز کہ خود فرض است بغرض مراعات روزہ ساقط گردد اینجاروزہ رمضان بہرادائے سنّتے حاشا بلکہ بہر تفاخرے بہ حصول امامتے بلکہ بہر فعلے ناجائزے گناہے حرامے عفو مے شود ان ھذا الاجھل صریح او عناد قبیح ایں عزیز راگویند کہ حق سبحانہ، وتعالٰی صومِ رمضان بر تو وہمگناں فرض عین فرمودہ است و قرآن در تراویح ختم کردن نہ فرض ست ونہ سنتِ عین،اگر بسبب تکثیر تلاوت ہنگام دور کہ اکثر حافظا ں را ازاں نا گزیر ست ضعفے بتوراہ می یا بدایں خود بر گردن تو نہ نہادہ اند بحافظے دیگر اقتداکن و تراویح گزار و روزہ دارھم فرض بیاب وہم بہ سنت شتاب وایں قدر نیز نمے توانی

کرتا ہے۔"علماء نے مطلقًافرمایا ہے کہ جوبھی عمل روزہ رکھنے سے کمزور کرے یا مانع ہووہ جائز نہیں،درمختار میں ہے کہ ہر وُہ عمل جو انسان کو کمزور کردے وُہ جائزنہیں ہوتا۔ اگرروزے کی وجہ سے کوئی شخص اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ نماز میں قیام کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے لئے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں بلکہ وہ روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔ درمختار میں بزازیہ سے ہے اگر کسی نے روزہ رکھا اور وہ ماز میں قیام سے عاجز ہوگیا تو وہ دونوں عبادات کو جمع کرتے ہوئے روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔تمام قرآن در تراویح مخواں ومشنو ہمیں بست رکعت بہ نہجیکہ قادر باشی بجا آورد روزہ از دست دادہ مستحق نار جحیم و عذاب الیم مباش سبحان اﷲ! علماء کے نزدیك روزہ کی خاطر نماز میں قیام ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ یہ قیام فرض ہے صورتِ مذکورہ میں تو سنت کی خاطر نہیں بلکہ حصول امامت پر تفاخر کے لیے روزہ رمضان ترك کیا جارہا ہے بلکہ ناجائز، حرام اور گناہ فعل کے لیے ترك ہے، اﷲ تعالٰی معاف فرمائے ۔یہ تو جہالت صریح اور عناد قبیح ہے اس عزیز سے کہا جائے کہ ا ﷲ سبحانہ وتعالٰی نے تجھ پر روزہ رمضان فرضِ عین فرمایاہے اور تراویح میں قرآن ختم کرنا نہ فرض نہ سنّتِ عین۔ اگر بسببِ کثرت تلاوت دَور کی وجہ سے جو حفّاظ کے لیے جاگزیر ہوتا ہے ایسا ضُعف لاحق ہونے کا خطرہ ہے تو یہ بوجھ اپنے اوپر نہ لے بلکہ کسی دوسرے حافظ کی اقتداء کرے،تراویح ادا کرے اور روزہ رکھے، فرض کو بجالائے، اور سنّت بھی حاصل کرے،اور اگر اس قدر کی بھی طاقت نہیں تو

 


 

 



[1] درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسد مطبع مجتبائی دہلی ١/١٥٢

[2] درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسد مطبع مجتبائی دہلی ١/١٥٢



Total Pages: 836

Go To