Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

ھریرۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ۔

مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)

نیز فرماتے ہیں صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم:

من سأل من غیر فقر فانما یا کل الجمر۔[1] رواہ احمد وابن خزیمۃ وایضافی المختارۃ عن حبشی بن جنادۃ رضی اﷲتعالیٰ عنہ بسند صحیح۔

جو بے  حاجت وضرورتِ شرعیہ سوال کرے وہ جہنم کی آگ کھاتا ہے (اسے امام احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور المختارہ میں حضرت حبشی بن جنادہ رضی اﷲعنہ سے صحیح سندکے ساتھ مروی ہے ۔ت)

تنویر الابصار و درمختار میں ہے:

لایحل ان یسئل من لہ قوت یومہ بالفعل او بالقوۃ کالصحیح المکتسب ویا ثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم اھ۔[2]وتمام الکلام فی ھذاالمقام مع دفع الاوھام فی فتاوٰنا وقد ذکر ناشیأ منہ فیما علقنا علی رد المحتار  

واﷲ تعالیٰ یقول جل مجدہ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪، واﷲتعالیٰ اعلم۔

جس شخص کے پاس عملًا ایك دن کی روزی موجود ہو یا وہ روزی کمانے کی صحیح طاقت رکھتا ہو (یعنی وہ تندرست و توانا ہوتو) اس کے لیے روزی کا سوال جائز نہیں، اس کے حال سے آگاہ شخص اگر اسے کچھ دے گا تو وہ گنہ گار ہوگا کیونکہ وہ حرام پر اس کی مدد کررہا ہے اھ(ت)اور اس پر ایسی تفصیلی گفتگو جس سے تمام اوہام کا رد ہوجائے ہم نے اپنے فتاوٰی میں کی ہے اور اس میں کچھ ردالمحتار کے حاشیہ میں بھی ذکر کی ہے اور اﷲتعالیٰ سبحانہ کا مبارك فرمان ہے: گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو۔ واﷲتعالیٰ اعلم(ت)

مسئلہ ١٥٥:              مرسلہ مظفر علی ساکن قصبہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی محلہ سید باڑہ        ١٦ جمادی الاولیٰ ١٣٣٠ھ

میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور فاتحہ اولیاء اﷲ کی شیرینی کھانا اور شربت محرّم کا پینا درست ہے یا نہیں اور ان کا حرام جاننے والا اور مثل زکوٰۃ کے مال کے، بجز مساکین اور سب کے واسطے، حرام قطعی بتانے والا


 

 



[1] مسند احمد بن حنبل حدیث حبشی بن جنادۃ السلولی رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ٤/١٦٥،صحیح ابن خزیمہ نمبر٤١٢ باب التغلیظ فی مسئلۃ الغنی من الصدقۃ حدیث ٢٤٤٦ المکتب الاسلامی بیروت ٤/١٠٠

[2] درمختار شرح تنویرالابصار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١/١٤٢



Total Pages: 836

Go To