Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

الشاۃ (وفصیل)ولدالنّاقۃ(وعجوّل)بوزن سنّورولد البقرۃ وصورتہ ان یموت کل الکبار ویتم الحول علی اولا دھاالصغار (الاتبعًا لکبیر ولو واحدا(و)لافی(عفووھو مابین النصب فی کل الاموال اھ [1]ملخصاملتقطا۔

جانوروں، بکری کے بچّوں، اونٹنی کے بچوں اور گائے کے بچّوں میں زکوٰۃ نہیں۔ اسکی صورت یہ ہے کہ بڑے جانور مرجاتے ہیں اور سال ان کے چھوٹے بچوں پرمکمل ہوتا ہے(تو اب زکوٰۃ نہیں) مگر اس صُورت میں کہ بڑے موجود ہوں توان کی اتباع میں زکوٰۃ ہوگی اگر چہ بڑا ایك ہو اور عفو میں زکوٰۃ نہیں، اور یہ تمام اموال میں نصابوں کے درمیانی حصہ کو کہا جاتا ہے ملخصًا۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

الجاموس ھو نوع من البقر کما فی المغرب فھو مثل البقرفی الزکوٰۃ والاضحیۃ والربا ویکمل بہ نصاب البقروتوخذ الزکوٰۃ من اغلبھا وعند الاستواء یوخذ علی الادنی وادنی الاعلیٰ ،نھر،وعلی ھذا الحکم البخت والعراب والضان والمعز، ابن ملک۔[2]

بھینس، گائے کی ایك نوع ہے جیسا کہ مغرب میں ہے لہذا یہ زکوٰۃ، قربانی اور ربا میں گائے کے حکم میں ہوگی، اس سے گائے کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے اگر گائیں غالب ہوں تو زکوٰۃ لی جائے گی اور اگر برابر ہوں تو اُن میں جو قسم اعلیٰ ہے اس کا ادنی لیا جائیگا یا ادنی کا اعلیٰ، نہر ۔ اور اسی کے حکم میں بختی اور عربی اونٹ، بھیڑ اور بکری وغیرہ ہوتے ہیں، ابن الملک۔ (ت)

اسی میں ہے:

النصاب اذا کان ضأنا یوخذ الواجب من الضان ولو معز افمن المعز ولومنھمافمن الغالب ولو سواء فمن ایھما شاء جوہرۃ ای فیعطی ادنی الاعلیٰ اوعلی الادنی کما قد مناہ۔[3]

نصاب اگر بھیڑ کا ہے تو بھیڑ ہی وصول کی جائے، اور اگر نصاب بکری کا ہے تو بکری ہی لی جائےگی، اور اگر دونوں سے نصاب ہے تو پھر غالب کا اعتبار ہوگا، اوردونوں برابر ہوں تو جس سے چاہولے لو، جوہرہ۔یعنی اعلیٰ سے ادنیٰ یا ادنیٰ سے اعلیٰ لیا جائیگا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے(ت)

 


 

 



[1] درمختار      باب زکوٰۃ الغنم        مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۳

[2] ردالمحتار             باب زکوٰۃ البقر        مصطفی البابی مصر            ۲/۱۹

[3] ردالمحتار،باب زکوٰۃ الغنم،مصطفی البابی مصر،۲/۲۰



Total Pages: 836

Go To