Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

علیھم ففراغ الوظیفۃ لعدم من یوظف علیہ کارض خربۃ لم تزرع اصلا اما اذا وجد نا من نوجب علیہ فلا معنی للفراغ وقد نص المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر"اواخر باب زکوٰۃ الزروع"فی تعلیل قول الامام رضی اﷲتعالیٰ عنہ، ان الذمی اذااشتری عشریۃ من مسلم تصیرخراجیۃ ،[1]مانصہوجہ قول ابی حنیفۃ انہ تعذرالعشرلان فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا عن وظیفۃ مقررۃ فیھا شرعااھ [2]مختصرا، فھذا بحمد اﷲ نص فیما عولنا علیہ وﷲالحمد ۔ وبالجملۃ مالبیت المال فارغۃ مادامت لھا فاذا انتقلت لملك احد بوجہ صحیح کما ھوالمحمل فی الاراضی التی بایدی الناس یتوارثونھا ویتصرفون فیھا تصرف الملاك کما حققہ فی ردالمحتار وبیناہ فی فتاوٰ نافلا محید عن التوظیف الاتری ان الموات تکون لبیت المال

شئی واجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں، یہاں عشر و خراج کانہ لازم ہونا اس لیے ہے کہ یہاں کوئی ایسا شخص ہی نہیں جس پر کچھ لازم کیا جائے جیسے کہ بنجر زمین جو بالکل ہی کاشت نہ کی گئی ہو اور اگر ہم یہاں ایسے شخص کو پالیں جس پر کوئی شئی لازم کریں تو فراغ کا کوئی معنیٰ نہ ہوگا۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں باب زکوٰۃ الزروع کے آخر میں امام صاحب رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے قول کی علت بیان کرتے تصریح کی ہے کہ ذمی نے جب عشری زمین کسی مسلمان سے خریدی تو وُہ خراجی ہوجائےگی۔    امام ابو حنیفہ کے قول کی وجہ یہ بیان کی کہ یہاں عشر نہیں ہوسکتا کیونکہ عشر مین عبادت کا پہلو ہے اور زمین شرعی طور پر کسی مقرر وظیفہ سے خالی نہیں ہوسکتی اھ اختصارًا بحمداﷲ یہ ہمارے مختار پر تصریح ہے وﷲالحمد۔ الغرض بیت المال کی زمین جب تك بیت المال کی ہے وُہ ہر وظیفہ سے فارغ رہے گی حتی کہ وہ کسی طریق صحیح سے کسی کی ملکیت میں چلی جائے جیسا کہ معاملہ ان اراضی کا ہے جو لوگوں کے پاس بطور وراثت منتقل ہوتی ہیں اور ان میں وُہ مالکوں جیسا تصرف کرتے ہیں جیسا کہ رد المحتار میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے پس ان میں وظیفہ سے چھٹکارا نہیں، کیا تمھارے علم میں نہیں کہ جب بے آباد زمین

 


 

 



[1] فتح القدیر      باب زکوٰۃ الزروع الثمار      مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر  ۲ /۱۹۶

[2] فتح القدیر     باب زکوٰۃ الزروع الثمار        مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷



Total Pages: 836

Go To