Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

فی الاوسط والحاکم فی المستدرك عن جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالیٰ عنھما۔

جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بیشك اﷲتعالیٰ نے اس مال کاشر اس سے دُور کردیا۔ اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں، طبرانی نے معجم اوسط میں اور حاکم نے مستدرك میں حضرت جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالےٰ عنہما سے روایت کیاہے۔

چوتھی حدیث میں ہے حضورِعلیٰ صلٰوۃواﷲوسلامہ علیہ فرماتے ہیں:

حصّنوااموالکم بالزکوٰۃ وداووا مرضاکم بالصدقۃ [1]رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ عن الحسن والطبرانی و البیھقی وغیرھما من جماعۃمن الصحابۃ رضی اﷲتعالیٰ عنھم۔

اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کرلو زکوٰۃ دے کر، اور اپنے بیماروں کا علاج کرو خیرات سے۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں امام حسن بصری سے اور طبرانی و بیہقی اور دیگر محدثین نے صحابہ کی ایك جماعت سے نقل کیا  ہے رضی اﷲتعالیٰ عنہم۔

اے عزیز !ایك بے عقل گنوارکو دیکھ کہ تخمِ گندم اگر پاس نہیں ہوتا بہزار دقت قرض دام سے حاصل کرتا اور اسے زمین میں ڈال دیتاہے، اس وقت تو وُہ اپنے ہاتھوں سے خاك میں ملا دیا مگر امید لگی ہے کہ خداچاہے تو یہ کھونا بہت کُچھ پانا ہوجائے گا۔ تجھے اس گنوار کے برابربھی عقل نہیں ، یا جس قدر ظاہری اسباب پر بھروسہ ہے اپنے مالك جل وعلا کے ارشاد پر اتنا اطمینان بھی نہیں کہ اپنے مال بڑھانے اور ایك ایك دانہ ایك ایك پیڑ بنانے کو زکوٰۃ کا بیج نہیں ڈالتا۔ وُہ فرماتا ہے : زکوٰۃ دو تمھارا مال بڑھے گا۔ اگر دل میں اس فرمان پر یقین نہیں جب تو کُھلا کفر ہے، ورنہ تجھ سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنے یقینی نفع دین و دنیا کی ایسی بھاری تجارت چھوڑ کر دونوں جہانوں کا زیاں مول لیتا ہے۔

حدیث۱:  میں ہے رسول اﷲصلے اﷲتعالےٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ان تمام اسلامکم ان تؤدوازکوٰۃ اموالکم۔ [2]رواہ البزار عن علقمۃ۔

تمھارے اسلام کا پُورا ہونا یہ ہے کہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔ اسے بزار نے حضرت علقمہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔

حدیث۲:حضورصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرتے ہیں :

من کان یؤمن باﷲورسولہ فلیؤد زکوٰۃ

جو اﷲاور اﷲکے رسول پر ایمان لاتا ہواسے لازم

 


 

 



[1] کتاب المرسیل         باب الصائم یصیب اھلہ (۲۰)مکتبہ علمیہ لاہور    ص ۶۲

[2] کشف الاستارعن زوائدالبزار    باب وجوب الزکوٰۃ             مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۴۱۶



Total Pages: 836

Go To