Book Name:Fatawa Razawiyya jild 10

زکوٰۃ کی پیشگی ادائیگی تبرع ہے اور تبرع پرجبرنہیں۔

٧٦

سونے اور چاندی کے نصاب کی تفصیل اور اس پرمقدار زکوٰۃ کابیان۔

٨٥

حولان حول کے بعد جب زکوٰۃ واجب الادا ہوچکی ہو تو اب تفریق وتدریج ممنوع ہوگی بلکہ فورًا تمام وکمال زر واجب الادا کرے ۔

٧٦

حولان حول سے قمری سال مرادہے۔

٨٥

مذہب صحیح ومعتمد میں ادائے زکوٰۃ کاوجوب فوری ہے۔

٧٦

حولان حول سے پہلے نصاب کی جنس سے وسط سال میں جتنے مال کا اضافہ ہوگا وہ بھی اصل نصاب میں شامل کرکے سب کی زکوٰۃ دی جائے گی بشرطیکہ کسی مال پردوبارہ زکوٰۃ لازم نہ آئے۔

٨٦

وجوب زکوٰۃ کے بعد ادائیگی میں تاخیر باعث گناہ ہے۔

٧٦

مسئلہ ثالثہ: اگرآئندہ زیورکم ہوجائے توزکوٰۃ میں کس حساب سے کمی کی جائے۔

٨٨

حج کا وجوب قول راجح پرفوری ہے لیکن تاخیر کی صورت میں بھی اداہی ہوگا نہ کہ قضاء ۔

٨٠

زکوٰۃ صرف نصاب میں واجب ہوتی ہے نہ کہ عفو میں۔

٨٨

سجدہ تلاوت کاوجوب امام ابویوسف کے نزدیك فوری اور امام محمد کے نزد یك متراخی ہے مگرجب بھی کرے گابالاتفاق اداہی کہلائے گا نہ کہ قضاء۔

٨٠

نصاب میں نقصان اگرحولانِ حول سے قبل ہو تو دو حال سے خالی نہیں۔

٨٩

ہمارے بہت ائمہ نے تصریح فرمائی کہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیرکرنے والا مردودالشہادۃ ہے، اور یہی منقول ہے حضرت امام محمد سے۔

٨٠

نصاب پر سال پوراہوگیا اور زکوٰۃ واجب ہوچکی مگرابھی ادانہیں کی تھی کہ مال کم ہوگیا، یہ تین حال سے خالی نہیں کہ کمی کاسبب استہلاك ہوگا یا تصدق یاہلاک۔

٩٠

بعدازوجوب زکوٰۃ ادائیگی کی تاخیر میں آفات ہیں۔

٨٣

صورت اولیٰ یعنی استہلاك کاحکم۔

٩١

امام محمد باقررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ایمان افروز واقعہ۔

٨٤

صورت ثانیۃ یعنی تصد ق کا حکم

۹۱

امام محمدباقررضی اﷲ تعالیٰ کے فضائل۔

٨٤

امام ابوالسعود محمدآفندی مفتی د یار رومیہ صاحب بحرپر،صاحب بحرشرنبلالی پراور شرنبلالی اس ابوالسعود پرمقدم ہیں جو شرنبلالی کی کتب کے محشی ہیں۔

٩٤

لوگوں کوزکوٰۃ کی ادائیگی میں تدریج پرراغب کرنے والی باتیں۔

٨٤

صورت ثالثہ یعنی ہلاك کاحکم۔

٩٥

مسئلہ ثانیہ: زید کے پاس زیورہے وہ اس کی زکوٰۃ دیتاہے، آئندہ کو زیور زیادہ ہوتو کس حساب سے زر زکوٰۃ زیادہ کرے۔

٨٥

 

 

 


 

 



Total Pages: 836

Go To