Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

مدد سے بلندئ تحقیق تك رسانی ہے ۔ت) 

سوال (١): جناب نے قبر کی مٹی حائل دیکھ کر آواز سننی، صورت دیکھنی محال ٹھہرائی، اس سے مراد محال عقلی یا شرعی یا عادی، بر تقدیر اول کا ش کوئی برہان قاطع ا س کے استحالہ پر قائم فرمائی ہوتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ اﷲ تعالٰی قادر ہے کہ یہ حائل مانع احساس نہ ہو، اگر کہیے نہ، تو اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۱۰۹[1](بیشك اﷲ تعالٰی ہر شے پر قادر ہے۔ ت) کا کیا جواب؟____ اورفرمائیے ہاں تو استحالہ کہاں؟ ____ بر تقدیر ثانی آیات قرآنیہ و احادیث صحیحہ سے ثابت کیجئے کہ جب تك یہ حجاب حائل رہیں گے ابصار وسماع نہ ہوسکیں گے، الفاظ شریفہ ملحوظ خاطر رہیں___ بر تقدیر ثالث عادتِ اہل دنیا مراد یا عادت اہل برزخ۔ در صورت اول کیا دلیل ہے کہ مانع دنیوی حائل برزخ بھی ہے۔ کیا جناب کے نزدیك برزخ دنیا کا ایك رنگ ہے؟ اہل دنیا ملائکہ کو نہیں دیکھتے مگر بطور خرق عادت اور برزخ والے عموما دیکھتے ہیں، حتی کہ کفار بھی۔ احادیث نکیرین چھپنے کی چیز نہیں، درصورت دوم جناب نے یہ عادت اہل برزخ کیونکر جانی، اموات نے تو آکر بیان ہی نہ کیا، اور طریقے سے علم ہو ا توا رشاد ہو، اور مامول کہ دعوٰی بتمامہا زیر لحاظ رہے۔

سوال (٢):اسی تشقیق سے احد الشقین الاولین مراد تو آپ ہی کا آخر کلام اس کا اول رادکہ محال عقلی ، صالح تعلق اذن نہیں، اور محال شرعی سے ہر گز اذن متعلق نہ ہوگا، وبر شقِ ثالث ا سکا اعتقاد ممکن کا اعتقاد کہ ہر محال عادی، ممکن عقلی ہے اور شرك اعظم محالات عقلیہ کا اعتقاد، تو اعتقاد ممکن عقلی کا شرك ہونا محال عقلی بین الفساد وبعبارۃ اخری اوضح واجلی (اور بعبارات دیگر زیادہ واضح وروشن ۔ ت) جناب کی پچھلی عبارت صاف گواہ کہ بعض اموات کوا یسی زیادتِ ادراك عطا ہوتی ہے کہ وہ تو جہ خاص کریں تو باذن اﷲ دعائے زائرین سن سکتے ہیں___ میں کہتا ہوں کہ اﷲ تعالٰی قادر ہے یا نہیں کہ یہ قوت انھیں ہروقت کے لیے بخشے____ برتقدیر انکار سخت مشکل، اَفَعَیِیۡنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِؕ[2](توکیا ہم پہلی تخلیق سے تھك گئے۔ ت) در صورت اقرار میّت یہ وصف ملنے سے خدا کا شریك ہوگیا یا نہیں؟ میں جانتاہوں ہاں نہ کہئے گا، اور جب نہ کہ ٹھہری تو میں عرض کروں، وہ وصف جس کے ثبوت سے خد اکی شرکت لا زم نہ آئی، اس کے اثبات سے خدا کا شریك ہو نا کیونکر قرار پایا؟ او رجس کی حقیقت شرك نہیں اس کا گویا شائبہ کیونکر ہوا؟

سوال (٣) :کیا آدمی اسی کام کو حلال جانے جس کے بکار آمد ہونے پر یقین رکھتاہو، باقی کو حرام سمجھے یاصرف امید کافی اگر چہ علم نہ ہو، درصورت اولٰی واجب کہ نماز روزہ اور تمام اعمال حسنہ کوحرام جانیں کہ وہ بے قبول وبکار آمد نہیں اور


 

 



[1] القرآن ٢/١٠٩

[2] القرآن ۵۰/۱۵



Total Pages: 948

Go To