Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

نہ گزری تھی۔ گمان یوں تھا کہ قصدًا احتراز فرماتے ہیں بلکہ غلو منکرین کو خود بھی لائق انکار ٹھہراتے ہیں۔ طرفہ تر یہ کہ پہلی بسم اﷲ قلم کو اذن رقم ملا تو یوں کہ طرز ارشاد فریقین کے مضاد، پھر سراپا ناتمامی تقریب وناکامی مدعاء ۔ واجنبیت دلیل و بےتعلقی دعوٰی اگرچہ حضراتِ نجدیہ کا قدیمی دستور، مگر فضلیت سے بغایت دور، فقیر کوبعض وجوہ سے مولوی صاحب کی رعایت ایك حد تك منظور، ولہذا ان سطورمیں نام نامی مستور و نامسطور، مگر اظہار حق بنص قرآن ضرور، اور حدیث صحیح میں الدین النصح لکل مسلم [1]( دین ہر مسلم کی خیر خواہی ہے۔ ت) ماثور، میرامقصد تھا کہ اس مسئلہ میں تحقیق بالغ وتنقیح بازغ سے کام لوں، اس تفصیل جامع وتحریر لامع سے اختتام دوں کہ براہین اثبات کا حصر وافی ہو، از ہاق شبہات کا احاطہ کافی ہو، مگر جب دیکھا کہ خود جواب جناب مذہب منکرین سے منزلوں دور، اور اکثر اوہام جو ادھر سے پیش ہوتے ہیں آپ ہی کی تحریر سے ہباءً منثور، تو مجھے بہت کفایتِ مؤنت وکمی مشقت ہوئی، اور آخر رائے اس پر ٹھہری کہ بالفعل جناب کی تقریر خاص پر جواعتراضات میرے ذہن میں ہیں گزارش کرکے چند آثار واحادیث واقوال علمائے قدیم وحدیث ونبذ بحث اصل مدعا، یعنی ارواح طیبہ سے طلب دعا، اور بعد وصال ان کا فیض ونوال لکھ کر ختم کلام کروں اور بقیہ تحقیقات باہرہ وتدقیقات قاہرہ جو بحمد اﷲ حاضر خاطر بندہ قاصر ہیں، انھیں بشرط جواب مولوی صاحب دور آئندہ پر محول رکھوں، بااینہمہ یہ مختصر رسالہ ان شاء اﷲ تعالٰی ثابت کردے گا کہ مولوی صاحب کی یہ چند سطری تحریر اور اس پر مع ان کے اصل مذہب عــــہ چارسو۴۰۰ وجہ سے دار وگیر۔ واﷲ المعین وبہ استعین۔

المقصد الاول فی الاعتراضات و ازاحۃ الشبھات

( پہلا مقصد اعتراضات اور ازالۂ شُبہات میں)

اور اس میں دو نوع ہیں:

نوع اوّل اعتراضات مقصودہ میں___ شاید مولوی صاحب نام اعتراضات سے ناراض ہوں، لہٰذا مناسب کہ پیرایہ سوال میں اعتراض ہوں۔

فاقول: وبہ التوفیق وبہ الوصول الٰی ذری التحقیق (تو میں کہتا ہوں،ا ور خداہی سے توفیق ، اور اسی کی

عــــہ: اصل مذہب سے کبرائے مذہب مولوی صاحب کی تصریح مراد ہے کہ میّت جماد ہے ١٢ منہ سلّمہ ربہ


 

 



[1] الصحیح البخاری باب الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١/١٣



Total Pages: 948

Go To