Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

انکشافِ حال خارج ازعلم زائر اور بحیز اختیار پرورد گار عالم ہے۔ بروقت دعا زائر کے وہ بزرگ اس کی دعا کو سن لیں، جب زائر بلا حصول علم مرتکب سوال کا ہے تو گویا سائل نے اہل قبرکو سمیع وبصیر علی الاطلاق قررادیا ہے ، اور نہیں ہے یہ اعتقاد مگر شرک، اور ادنٰی درجہ کا شائبہ وشبہہ شرك تو ضرور ہوا، جس سے احتراز واجتناب لازم و واجب، فرقانِ حمید میں بمقاماتِ متعددہ اس کا بیان بتصریح تام وموجودہ ازانجملہ ہے۔ سورہ یوسف میں ہے :

وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشْرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶[1]۔

اورا ن میں اکثر خدا کو نہیں مانتے مگر شرك کرتے ہوئے۔ (ت)

اور حدیث شریف میں ہے:

من حلف بغیر اﷲ فقد اشرك [2]۔

جس نے غیر خدا کی قسم کھائی اس نے شرك کا کام کیا۔ (ت)

اور اس حرمت کا سبب سوائے اس کے نہیں کہ حالف کی اس قسم غیر خدا سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ اپنے عقیدے میں غیر خدا کو بھی ضرر رسان جانتا ہے جو معنًی شرك ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اس جواب کو دیکھ کر زیادہ تر حیرت یہ ہوئی کہ مولوی صاحب کی کوئی تحریر ان خلاف محدثہ میں آج تك نظر سے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)کہ موت خود اسی قطعِ تعلق مادی کا نام ہے، تو بعض اموات کی تخصیص محض بے وجہ، بلکہ تمام اموات کو حاصل ہونا چاہئے، اور بیشك ایسا ہے۔ اسی لیے اکابر محققین تصریح فرماتے ہیں کہ موت کے بعد کا ادراك بہ نسبت ادراك حیات کے صاف تراور روشن تر ہے۔ مقصد اخیر میں اس کی بعض تصریحیں آئیں گی، زیادہ نہیں تو نوع دوم مقصد سوم مقال چہارم میں شاہ عبدالعزیز صاحب ہی کا قول ملاحظہ ہوجائے۔ منہ

عــــہ۳:مولوی صاحب اس کلام سے شاہ عبدالعزیز صاحب کے اس قول کی طرف مشیر ہیں، جس کاایك پارہ نوع ٢ مقصد ٣ مقال ١٦میں مذکور ہوگا۔ اور تتمہ جس نے آدھی وہابیت کا کام تمام کردیا عنقریب سوال ١٥ میں آتا ہے ان شاء اﷲ تعالٰی، اس میں شاہ عبدالعزیز صاحب نے شائبہ شبہہ ثابت ماناہے کہ اﷲ تعالٰی بعض اولیائے کرام کے مدارك کو ایسی وسعت دیتاہے، مولوی صاحب کے لفظ یہاں ایسے واقع ہوئے جو اقرار وانکار دونوں کا پہلو دیں، خیر اگر شاہ صاحب کوا س قول میں خاطی پائیں اور اپنی اگر چہ کو اساغت یا فرض ہی پر محمول رکھیں تاہم ہمیں مضر نہیں، نہ آپ کے کلام کی اصلاح کرسکتاہے، کما ستری، ان شاء اﷲ تعالٰی۔ منہ


 

 



[1] القرآن ١٢/١٠٦

[2] مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عمر دارالمعرفہ بیروت ٢/٨٧



Total Pages: 948

Go To