Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

مسئلہ ٢٧٢: بسم اﷲ الرحمن الرحیم چہ می فرمایند علماء دین ومفتیان شرع متین دریں باب ( کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں۔ ت)کہ ایك بزرگ کے مزار شریف پر واسطے زیارت کے گیا اس وقت یہ کلمہ زبان سے نکلا کہ اے بزرگ برگزیدہ درگاہ کبریائی! آپ اﷲ پاك سے میرے واسطے دعا کیجئے کہ حاجت میر ی فلانی بر آوے کیونکہ آپ بزرگ ہیں، بطفیل رسول عــــہ۱ مقبول، واسطے اﷲ کے حاجت برآوے، بعد کو کچھ فاتحہ ودرود شریف پڑھا اور پیشتر میں پڑھا، یوں مزار گاہ میں جانا اور دعا مانگنا اور زیارت کرنا جائز ہے یانہیں؟ زیادہ والسلام، فقط انتہی بلفظہ ۔

اس پر بعض اجلہ مخادیم کا جواب مزیّن بمہر ودستخط جناب تھا۔ جس میں صاف صاف صورت مذکورہ کو شرك اور ادنٰی، درجہ شائبہ شرك قرار دیا، اور دلیل میں ایك نئے طور پر اصحاب قبور کے انکار سماع بلکہ استحالہ و امتناع سے کام لیا، تحریر شریف یہ ہے: بسم اﷲ الرحمن الرحیم اس میں شك نہیں کہ زیارت قبور مومنین خاصہ بزرگان دین، اور پڑھنا درود شریف اور سورہ فاتحہ وغیرہ کا اور ثواب خیرات، اموات کو بخشنا مندوب ومسنون ہے۔ جس پر حدیث شریف جناب سید الثقلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:

کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزورھا [1]۔

میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا تو اب تم ان کی زیارت کرو۔ (ت)

نص صریح ناطق،لیکن بزرگانِ اہل قبور کو خطاب طلب دعائے حاجت روائی خود کرنا خالی از شائبہ وشبہہ شرك نہیں۔ کیونکہ جب درمیان زائر اور مقبور کے حجب عدیدہ سمع وبصر حائل تو سماع اصوات اور بصارت صورمحال، اگر چہ بعض اموات کو بوجہ عــــہ۲ قطع تعلق ازمادہ، زیادت عــــہ۳  ادراك بھی حاصل ہو،لیکن یہ مستلزم اس کو نہیں بلاتوجہ خاص جس کا

عــــہ۱: صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم

عــــہ۲: عجیب لطیفہ غیبی اقول: وباﷲ التوفیق، ذی علم اگر چہ لغزش کریں پھر بھی سخن حق ان کے کلام میں اپنی جھلك دکھا ہی جاتا ہے، یہ بوجہ مولوی صاحب نے ایسے فرمائے جس نے مذہب حق کی وجہ موجہ ظاہر کردی۔ میں عرض کروں جب زیارت ادراك کی وجہ علائق مادی کا انقطاع ہے تو وہ عمومًا ہر میّت کو حاصل (باقی اگلے صفحہ پر)


 

 



[1] سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی زیارۃ القبور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١١٣،مشکوٰۃ المصابیح باب زیارۃ القبور فصل اول مطبع مجتبائی دہلی ص۱۵۴



Total Pages: 948

Go To