Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

 

 

 

 

 

رسالہ

بَرِیقُ الْمَنَارْ بِشُمُوْعِ الْمَزَارْ  ۱۳۳۱ھ

(منارے کی چمك مزار کی شمعوں سے)

 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم نحمدہ  ونصلّی علٰی رسولہ الکریم۔

مسئلہ ۱۴۹: از لکھنؤ محلسرا ڈاکخانہ چوك مرسلہ مولوی محمد احمد صاحب علوی خلف مولوی حبیب علی صاحب مرحوم ۸ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مزاراتِ اولیاء اﷲ پر روشنی کرنا جائز ہے یانہیں؟ زید کہتا ہے کہ روشنی مزاراتِ اولیاء اﷲ پرناجائز ہے کیونکہ اس میں تعبد منظور ہوتاہے، چنانچہ زید کی تحریر بجنسہٖ ذیل میں نقل کی جاتی ہے، آیا مسلك زید کا نزدیك علمائے دین ومفتیان شرع متین قابل قبول وعمل ہے

یا نہیں؟

نقلِ تحریرِ زید یہ ہے:

میں بقسم شرعیہ اس کو باور کراتا ہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغانِ قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہو جائے تومیں رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں، چنانچہ فتاوٰی عالمگیری کو دیکھا اس میں نکلا کہ اخراج الشموع الی المقابر بدعۃ لااصل لہ( مزارات پر چراغان کرنا بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ت) اسی طرح


 

 



Total Pages: 948

Go To