Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

 

 

 

 

بذل الجوائِز علی الدّعاء بعد صلاۃ الجنائِز ۱۳۱۱ھ

(نمازِ جنازہ کے بعد دُعا کرنے پر انعامات کی تقسیم)

 

مسئلہ نمبر ٦٤:        استفتاء ازکانپور

بشرف ملاحظہ جامع المعقول والمنقول، واقف الفروع والا صول حضرت مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب مدظلہ العالی، پس ازتسلیم معروض، براہِ کرم اس کا جواب مرحمت فرمائےگا۔والتسلیم محمد عبدالوہاب ازکانپور، مدرسہ فیض عام۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں جو بلاد دکن وغیرہ میں یہ امر مروج ہے کہ بعد سلام نمازجنازہ قبل تفرق صفوف یعنی امام ومقتدی دونوں رُوبقبلہ اسی ہیئتِ معلومہ صلاۃ جنازہ پر قائم رہتے ہیں اور میّت کے حق میں چند دعائیں وسورہ فاتحہ وغیرہ پڑھ کر بخشتے ہیں آیا یہ امر شرعًا جائز ہے یا نہیں؟ امید کہ اس کا شافی جواب بحوالہ عباراتِ کتبِ معتبرہ مذہب حنفیہ مرحمت ہو۔بینواتوجروا۔

الجواب :

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم والحمدﷲ مجیب الدعوات وافضل الصلاۃ واکمل التحیات علی ملاذ الاحیاء ومعادالاموات خالص

اﷲ کے نام سے شروع نہایت مہربان، رحم والا۔ سب خوبیاں خداکےلئے جو دعائیں قبول فرمانے والا ہے، اور بہتر درود، کامل ترین تحیتیں ہوں اُن پر جو زندوں کی پناہ گاہ، مردوں کا مرجع،خالص اور

 


 

 



Total Pages: 948

Go To