Book Name:Fatawa Razawiyya jild 9

الٰہی ! میں تجھ سے مانگتاہوں اور تیری طرف منہ کرتا ہوں وسیلے سے تیرےنبی محمد کے کہ رحمت کے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔الٰہی ! بیشك کریم جب خود حکم سوال کا دیتا ہے تو اس سوال کو کبھی رَد نہیں کرتا۔اور بیشك تونے ہمیں حکم دیا تو ہم نے دُعا کی، اور تونے ہمیں اجازت دی تو ہم نے شفاعت کی ،اور تو ہر کریم سے بڑھ کرکرم والا ہے، تو ہماری شفاعت اس میّت کے حق میں قبول فرما، اور اس پر رحم کر اس کی تنہائی میں، اور اس پر رحم کر اس کی گھبراہٹ میں، اور اس پر رحم کر اس کی بیکسی میں، اوراس پر رحم کراس کی تکلیف میں، اور اسے بڑا ثواب دے، اور اس کی قبر نورانی کر، اور اس کا چہرہ پُرنور کر، اور اس کی خواب گاہ ٹھنڈی کر، اور اس کی جگہ معطر کرے، اوراسے عزّت والی مہمانی دے، اے سب میزبانوں سے بہتر، اے سب بخشنے والوں سے بہتر، اے سب مہربانوں سے بہتر! قبول فرما، قبول فرما، قبول فرما۔ درود و سلام وبرکات اتار سب شفیعوں کے سردار محمد اور اُن کی آل اور اصحاب سب پر۔ اور سب خوبیاں اﷲ کو جو سارے جہان کا پروردگار۔

فائدہ: نویں اور دسویں دعاؤں میں اگر میّت کے باپ کانام معلوم نہ ہو اس کی جگہ آدَمْ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلَام کہے سب آدمیوں کے باپ ہیں۔اگر خود میّت کا نام بھی نہ معلوم ہو تو نویں دعا میں لفظ ھٰذَا عَبْدُكَ یا ھٰذِہٖ اَمَتُكَ پرقناعت کرے فلاں ابن فلاں یا بنت فلاں کو چھوڑ دے اور دسویں میں اُس کی جگہ عَبْدُكَ ھٰذَا(یہ تیرا بندہ) یا عورت ہو تو اَمَتُكَ ھٰذَا(تیری یہ باندی) کہے۔

فائدہ: میت کا فسق وفجور اگر معاذاﷲ معلوم ہو تو نویں دُعا میں لَانَعْلَمُ اِلّا خَیرًا کی جگہ قَدْ عَلِمْنَا مِنْہُہَا خَیْرًا کہے کہ اسلام ہر خیر سے بڑھ کر ہے وَاﷲ غَفُوْر رَّحِیْم۔

فائدہ: ان دعاؤں میں بعض مضامین مکرر بھی ہیں اوردُعا میں تکرار مفید و مستحسن ہے، جیسے جلدی ہو یا یاد کرنے میں دِقّت جانے تو دائے اول ودوم وسوم اور چہارم بالقول الثابتتك اور ہشتم اور دوازدہم تك پڑھے، ان شاء اﷲ یہی کافی ووافی ہے، یہ نصف سے کم بھی کم رہ گیا اور چاہے تو چہارم دہم بھی ملالے اب بھی نصف سے کچھ زائد رہے گا، اور وقت مساعدت کرے تو سب کا پڑھنا اولٰی ہے، امام جتنی دیر میں یہ دعائیں پڑھے مقتدی دعائے مشہور کے بعد اگر ان ادعیہ سے کچھ یاد نہ ہو صرف آمین آمین کہتے رہیں۔

طریقہ تلقینِ قبر: حدیث میں عــــہ ہے حضور سیّد عالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب تمہارا

عــــہ: عن رواہ الطبرانی المعجم الکبیر والضیاء فی الاحکام وابن شاہین فی ذکر الموت واٰخرون کما ذکرنا فی حیاۃ الموت١٢منہ(م)

اسے طبرانی نے معجم کبیر میں ،ضیاء نے احکام میں، ابن شاہین نے ذکر الموت میں روایت کیا اوردوسرے حضرات نے بھی روایت کیا، جیسا کہ ہم نے رسالہ حیاۃ الموت میں بیان کیا ہے ١٢منہ(ت)

 


 

 



Total Pages: 948

Go To